بلوچستان میں امراض قلب کے پہلے جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کی تکمیل آخری مراحل میں داخل، افتتاح رواں ماہ متوقع ہے، وزیر اعلیٰ

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (BICVD) کی تکمیل آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے اور 150 بستروں پر مشتمل اس جدید ہسپتال کا افتتاح رواں ماہ متوقع ہے

کوئٹہ۔ 07 نومبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (BICVD) کی تکمیل آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے اور 150 بستروں پر مشتمل اس جدید ہسپتال کا افتتاح رواں ماہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے قیام سے بلوچستان کے عوام کو امراض قلب کی تشخیص اور علاج کی جدید سہولیات صوبے میں ہی میسر آئیں گی اور مریضوں کو علاج کے لیے دیگر صوبوں کا سفر کرنے کی مشکلات سے نجات ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ہسپتال کی تکمیل، طبی سہولیات کی فراہمی، انتظامی ڈھانچے اور ادارے کو فعال بنانے کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں معروف ماہر امراض قلب ڈاکٹر جلال خان کو بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کا عبوری سربراہ تعینات کرنے کی منظوری دی گئی، ڈاکٹر جلال خان ادارے کو جدید طبی تقاضوں کے مطابق فعال بنانے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہسپتال کے ابتدائی مرحلے میں اس سے منسلک تین سیٹلائٹ مراکز بھی فعال کیے جائیں گے تاکہ مریضوں کو بنیادی سطح پر طبی سہولیات کی فراہمی اور بروقت تشخیص ممکن بنائی جاسکے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے اجلاس کو بتایا کہ دوسرے مرحلے میں سیٹلائٹ مراکز کا دائرہ کار تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بڑھایا جائے گا جبکہ صوبے کے تمام اضلاع میں چیسٹ پین مینجمنٹ سینٹرز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ سینے میں درد اور امراض قلب کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مریضوں کو فوری طبی امداد اور بروقت تشخیص کی سہولت فراہم کی جاسکے۔وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جدید طبی اداروں کا قیام اور عوام کو معیاری علاج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا صوبائی حکومت کے اہم اقدامات کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کو جدید طبی آلات، مستند ماہرین اور موثر انتظامی نظام کے ذریعے فعال بنایا جائے گا تاکہ امراض قلب کے مریضوں کو بروقت تشخیص، معیاری علاج اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور علاج معالجے کے لیے درپیش مشکلات کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طبی سہولیات کی فراہمی صرف کوئٹہ نہیں بلکہ سیٹلائٹ مراکز کے ذریعے بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں بھی یقینی جائے گی تاکہ صوبے کے ہر شہری کو امراض قلب کی بہتر طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، بورڈ اراکین ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، ڈاکٹر محمد نواز، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی اور نو تعینات عبوری سربراہ ڈاکٹر جلال خان نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عمران زرکون، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون خان، سپیشل سیکرٹری محکمہ صحت شہک بلوچ، سپیشل سیکرٹری خزانہ محمد عارف خان اور دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔