پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو درپیش سیاسی، انتظامی اور مالی دباؤ کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے اس اہم اور کم لاگت مؤثر نظام کو بجٹ میں کٹوتیوں کے ذریعے کمزور کرنے کے بجائے تزویراتی اصلاحات کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے
اقوام متحدہ کے امن مشنز کو بجٹ میں کٹوتیوں کے بجائے تزویراتی اصلاحات کے ذریعے مضبوط بنایا جائے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔7نومبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو درپیش سیاسی، انتظامی اور مالی دباؤ کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے اس اہم اور کم لاگت مؤثر نظام کو بجٹ میں کٹوتیوں کے ذریعے کمزور کرنے کے بجائے تزویراتی اصلاحات کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ نے جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی (خصوصی سیاسی اور نوآبادیاتی امور) میں امن مشنز سے متعلق بحث کے دوران کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کا ناگزیر، مؤثر اور کم لاگت ذریعہ ہیں، جنہیں جغرافیائی و سیاسی تقسیم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد اقوام متحدہ کی عملی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں جنگ بندی، سیاسی سمجھوتوں یا کسی نئی بحرانی صورتحال کے دوران عالمی ادارہ قابل اعتماد بین الاقوامی موجودگی یقینی بنا سکے۔پاکستانی مندوب نے امن مشنز کے لیے سیاسی حل کو ترجیح دینے، واضح اور متعین مینڈیٹ کے مطابق مناسب وسائل فراہم کرنے، امن دستوں کی سلامتی بہتر بنانے اور ان کے خلاف جرائم پر جوابدہی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امن مشنز کی ذمہ داریوں کا تعین سیاسی مقاصد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، مالی وسائل کی مقررہ حدود کو آپریشنل ضروریات پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔سفیر حیدر شاہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور فوجی دستے فراہم کرنے والے بڑے ممالک کے ساتھ ساتھ میزبان ملک بھی ہے۔ اب تک ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ 183 اہلکاروں نے عالمی امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) کی میزبانی بھی کر رہا ہے، جو متنازع جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی نگرانی کرتا ہے۔بحث کے آغاز پر اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل محمد خالد خیاری نے امن اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہر روز شہریوں کو تشدد سے بچانے اور مکالمے کے عمل کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے گھروں سے دور رہ کر ذاتی خطرات مول لیتے ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے مالی واجبات مکمل طور پر ادا کریں تاکہ امن مشنز کو مناسب وسائل میسر آ سکیں۔انہوں نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث امن مشنز کے اخراجات میں 15 فیصد کمی کرنا پڑی ہے، جس کے نتیجے میں 13 ہزار 296 فوجی اہلکاروں اور ایک ہزار 212 پولیس اہلکاروں کو واپس بلایا گیا ہے۔سفیر حیدر شاہ نے زور دیا کہ امن مشنز کی کارکردگی اور اخراجات میں بچت کے اقدامات سے ان کی صلاحیتوں کو مضبوط ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی انفرادی افادیت اور عملی استعداد متاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز ایک مشترکہ عالمی نظام ہیں جنہیں کمزور کرنے کے بجائے مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔







