سابق ڈائریکٹر جنرل و ایڈیٹر ”اے پی پی“ ایم آفتاب کی آر آئی یو جے کے زیر اہتمام سینئر صحافیوں کے تجربات کا نوجوان صحافیوں سے تبادلہ کرنے کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) ملک کے مایہ ناز اور مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد سے منسلک سینئر صحافی اور سابق ڈائریکٹر جنرل و ایڈیٹر ”اے پی پی“ ایم آفتاب نے پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لئے صحافیوں کو اپنی اعلیٰ تعلیم، قابلیت اور استحکام پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہفتہ کو نیشنل پریس کلب میں آر آئی یو …

اسلام آباد ۔ 30 دسمبر (اے پی پی) ملک کے مایہ ناز اور مختلف قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد سے منسلک سینئر صحافی اور سابق ڈائریکٹر جنرل و ایڈیٹر ”اے پی پی“ ایم آفتاب نے پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لئے صحافیوں کو اپنی اعلیٰ تعلیم، قابلیت اور استحکام پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہفتہ کو نیشنل پریس کلب میں آر آئی یو جے کے زیر اہتمام سینئر صحافیوں کے تجربات کا نوجوان صحافیوں سے تبادلہ کرنے کے پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے انہوں نے مختلف اخبارات اور چینلز سے وابستہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے تجربات سے آگاہ کیا۔ ایم آفتاب جنہوں نے 1954ءسے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا اور اس دوران مختلف قومی اور بین الاقوامی انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات، جرائد اور خبر رساں اداروں سے منسلک رہے اور آج بھی ڈیلی لندن، خلیج ٹائمز دبئی اور دیگر میڈیا ہاﺅسز میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، نے انکشاف کیا کہ آج تک ان کی کسی خبر کی تردید نہیں ہوئی اور وفاقی دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو کراچی سے روالپنڈی آنے والے پہلے صحافی تھے جو اپنے ٹائپ رائٹر کے ہمراہ راولپنڈی آئے اور بعد ازاں صحافیوں کی تنظیم راولپنڈی یونین آف جرنلسٹ بنانے اور راولپنڈی پریس کلب کے حصول میں اپنے تنظیمی ساتھیوں کے ہمراہ موثر کردار ادا کیا۔ ایم آفتاب نے کہا کہ صحافتی اقدار سے روشناس ہونے کے ساتھ ساتھ صحافی کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے متعلقہ شعبہ میں سپیشلائزیشن کرنی چاہیے، تب جا کر صحافی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے اور اپنے متعلقہ ادارے کی ضرورت بن سکتا ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply