اسلام آباد ۔ 04 جنوری (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ گوادر میں چین کے فوجی اڈے بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، ڈرون حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا، صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پر پاکستان میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، امریکی امداد کے حوالے سے جلد تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی، بھارت کے انٹی بیلسٹک میزائل پروگرام …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وارپریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 04 جنوری (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ گوادر میں چین کے فوجی اڈے بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، ڈرون حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا، صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پر پاکستان میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، امریکی امداد کے حوالے سے جلد تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی، بھارت کے انٹی بیلسٹک میزائل پروگرام سے خطہ میں عدم استحکام کا شکار ہو گا، پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی امداد کے حوالے سے وزارت دفاع میں کام ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں جلد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے بھی واضح کیا ہے کہ ڈرون حملوں کا مناسب اورموثر جواب دیا جائیگا۔ صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پر اسلام آباد میں امریکہ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ پاکستان میں چینی فوجی اڈوں کے قیام سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ گوادر سمیت پاکستان میں کہیں بھی چینی فوجی اڈوں کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ بعض دشمن عناصر سی پیک منصوبے کو سبوتاژ اور پاک۔چین تعلقات متاثر کرنے کی غرض سے اس قسم کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ پاک۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال افغانستان کو پاکستانی برآمدات میں 9فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ افغان حکومت نے بھی تازہ پھلوں کی درآمدات کیلئے رجوع کیا ہے، اس مقصد کیلئے تمام کراسنگ بارڈر کھلے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بعض عناصر افغانستان کو پاکستانی برآمدات میں کمی کے بارے میں پروپیگنڈے کر رہے ہیں جس میں کوئی حقیقت نہیں۔ پاکستان دونوں ملکوں کے مابین تجارت بڑھانے کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔







