اسلام آباد ۔ 04 جنوری (اے پی پی)الیکشن کمیشن نے وفاق اور صوبوں سے انتخابی حلقہ بندیوں اور نظرثانی شدہ ووٹر لسٹوں کے حوالہ سے معاونت طلب کی ہے۔ صوبائی چیف سیکرٹریوں، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا اور سیکرٹری وزارت شماریات کے نام الیکشن کمیشن کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ چھٹی مردم شماری 2017ءکے بعد انتخابی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کے حوالہ سے الیکشن …
الیکشن کمیشن نے وفاق اور صوبوں سے انتخابی حلقہ بندیوں اور نظرثانی شدہ ووٹر لسٹوں کے حوالہ سے معاونت طلب کرلی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 04 جنوری (اے پی پی)الیکشن کمیشن نے وفاق اور صوبوں سے انتخابی حلقہ بندیوں اور نظرثانی شدہ ووٹر لسٹوں کے حوالہ سے معاونت طلب کی ہے۔ صوبائی چیف سیکرٹریوں، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا اور سیکرٹری وزارت شماریات کے نام الیکشن کمیشن کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ چھٹی مردم شماری 2017ءکے بعد انتخابی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کے حوالہ سے الیکشن کمیشن کی وفاق اور صوبے معاونت کریں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق خط میں 24ویں آئینی ترمیم 2017ءکے آرٹیکل 51 کی شق 3 اور 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مردم شماری کے نتائج کے بعد تمام صوبوں، قبائلی علاقوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشستوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظرثانی کرے تاکہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن اپنی یہ ذمہ داری پوری کر سکے، اس لئے آئین کے آرٹیکل 220 کے مطابق وفاق اور صوبے اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کی معاونت کریں۔ اس حوالہ سے الیکشن کمیشن 22 دسمبر 2017ءکو تمام چیف سیکرٹریوں اور وفاق کو پہلے بھی آگاہ کر چکا ہے۔







