اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی عملدرآمد کمیٹی میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیں قیام پاکستان کے بعد اب تک متروکہ وقف املاک کے 7من سے زیادہ سونے اور 47من سے زیادہ چاندی سمیت نقد رقوم کی ملکیت کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ پی اے سی نے ہدایت کی ہے کہ اس قومی دولت کی موقع پر جا کر …
پی اے سی کی عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس، متروکہ وقف املاک کے 7 من سونے، 47من چاندی اور نقد رقوم کی ملکیت کا جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی عملدرآمد کمیٹی میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیں قیام پاکستان کے بعد اب تک متروکہ وقف املاک کے 7من سے زیادہ سونے اور 47من سے زیادہ چاندی سمیت نقد رقوم کی ملکیت کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ پی اے سی نے ہدایت کی ہے کہ اس قومی دولت کی موقع پر جا کر چیکنگ کی جائے اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قانونی طریقہ کار کے مطابق ایسا راستہ اختیار کیا جائے کہ یہ قومی دولت مرکز کے پاس رہے اور اگر صوبوں میں اس کی تقسیم کی بات کی گئی تو ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو جائے گا۔ اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں رانا افضال حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزارت مذہبی امور اور فاٹا سیکرٹریٹ کے آڈٹ اعتراضات پر پی اے سی کے احکامات کے تحت عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے 1995ءسے متروکہ وقف املاک کی قیمتی دھاتیں جن میں 7 من ایک سیر 40 تولے سونا اور 43 من 30 سیر اور 63 تولے چاندی کا معاملہ حل طلب ہے۔ سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود نے کہاکہ یہ املاک سٹیٹ بینک اور صوبوں کی تجوریوں میں پڑی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے۔







