اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالر استعمال کرنے اور فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود بھی افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا اسوقت بھی افغانستان میں 40فیصد حصے پر افغان حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ‘امریکی الزامات نے خطے کے ساتھ ساتھ دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو متاثرکیا ہے‘ آپریشن درالسفاد …
وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان کی انسٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز کے زیر اہتمام” منظم پاکستان میں حفاظتی صورتحال ” کے عنوان سے منعقدہ لیکچر میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالر استعمال کرنے اور فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود بھی افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکا اسوقت بھی افغانستان میں 40فیصد حصے پر افغان حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ‘امریکی الزامات نے خطے کے ساتھ ساتھ دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو متاثرکیا ہے‘ آپریشن درالسفاد اور آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہیں ، ان سے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی ۔ وہ منگل کو یہاں انسٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز کے زیر اہتمام” منظم پاکستان میں حفاظتی صورتحال ” کے عنوان سے منعقدہ لیکچر میں گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لئے امریکی امدادی کی معطلی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ‘ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ گذشتہ دو سالوں سے معطل ہیں ‘ ایسی صورتحال میں امریکہ کے ساتھ اعلی درجے کی بات چیت شروع نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بہت قربانیاں ہیں ‘دنیا ہماری قربانیوں کی تسلیم کر رہی ہے لیکن امریکہ مسلسل الزامات عائد کر رہا ہے ‘ پاکستان کسی بھی صورتحال میںاپنی سرزمین پر افغان جنگ نہیں لڑ سکتا ۔








