اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی)اقبال کی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل سب زمانے یکجا ہیں۔ ا ن خیالات کا اظہار مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام علامہ اقبال کی منتخب نظموں کی آٹھ پاکستانی زبانوں (پنجابی، سندھی، پشو، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، براہوئی اور بلتی) میں اکادمی کی شایع کردہ کتابوں کی تقریب رونمائی میںکیا۔ وہ …
اقبال کی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل سب زمانے یکجا ہیں، عرفان صدیقی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 جنوری (اے پی پی)اقبال کی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل سب زمانے یکجا ہیں۔ ا ن خیالات کا اظہار مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام علامہ اقبال کی منتخب نظموں کی آٹھ پاکستانی زبانوں (پنجابی، سندھی، پشو، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، براہوئی اور بلتی) میں اکادمی کی شایع کردہ کتابوں کی تقریب رونمائی میںکیا۔ وہ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ماہر اقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے کلید ی خطاب پیش کیا۔ کادمی ادبیات پاکستان کے بورڈ آف گورنرز پر مشتمل پاکستانی زبانوں کے نمائندے اور ادیب اصغر ندیم سید (پنجابی)،عبد الغفارسومرو(سندھی)، ڈاکٹر نصر اللہ جان وزیر (پشتو)، منیر احمد بادینی(بلوچی)، حفیظ خان(سرائیکی)، ڈاکٹر نذیر تبسم(ہندکو) اور عار ف ضیاء(براہوئی) ان آٹھ کتابوں کے حوالے سے اظہارخیال کیا۔ نظامت ڈاکٹر راشد حمید ، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے کی۔ عرفان صدیقی، مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ نے کہا کہ علامہ اقبال کی منتخب نظموں کے آٹھ پاکستانی زبانوں میں تراجم پر مبنی کتابوں کی اشاعت علامہ اقبال کی فکر اور تعلیمات کو فروغ دینے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔








