وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین کا قومی اسمبلی میں توجہ مبذول نوٹس کا جواب

اسلام آباد۔ 24 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ پاکستان میں پانی پینے کے قابل نہیں ہے‘ ہم نے ملک بھر میں سروے کرایا جس میں سے صرف 31 فیصد پانی کے سیمپل درست پائے گئے‘ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر ہم نے ایک سروے کرایا۔ شہری علاقوں میں 41 فیصد پینے کا پانی …

اسلام آباد۔ 24 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ پاکستان میں پانی پینے کے قابل نہیں ہے‘ ہم نے ملک بھر میں سروے کرایا جس میں سے صرف 31 فیصد پانی کے سیمپل درست پائے گئے‘ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر ہم نے ایک سروے کرایا۔ شہری علاقوں میں 41 فیصد پینے کا پانی دستیاب ہے‘ اگر قومی اسمبلی میں ہمیں جوابدہ بنانا ہے تو ہمیں اختیارات بھی ملنے چاہئیں۔ اٹھارہویں ترمیم پر ہمیں نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر ایک ترمیم کی ہے تو جہاں جہاں اس میں کمزوریاں ہیں وہ دور کرنے کے حوالے سے ترمیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں شیخ صلاح الدین کے ملک میں 80 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک دسترس نہ ہونے کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پی سی آئی ایس آر ریسرچ کا ادارہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں پینے کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ یہ ادارہ ملک سے سیمپل لے کر ذمہ دار اداروں کو رپورٹ بھیجتے رہتے ہیں۔