اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) بین الپارلیمانی یونین جسے دنیا کے سب سے بڑے پارلیمانی فورم ہونے کا اعزاز حاصل ہے میں سینٹ آف پاکستان کو بہترین نظام کاری اور اندرونی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے ترقی کیلئے اقدامات کرنے کو بطور کیس سٹڈی پیش کردیا گیا جس کی شرکاء نے حوصلہ افزائی کی اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی روایت کو سراہا۔ اس اصلاحاتی عمل …
سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک کی بین الپارلیمانی یونین کے ماہرین کی گول میز کانفرنس کی دوسری نشست میں بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 مارچ (اے پی پی) بین الپارلیمانی یونین جسے دنیا کے سب سے بڑے پارلیمانی فورم ہونے کا اعزاز حاصل ہے میں سینٹ آف پاکستان کو بہترین نظام کاری اور اندرونی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے ترقی کیلئے اقدامات کرنے کو بطور کیس سٹڈی پیش کردیا گیا جس کی شرکاء نے حوصلہ افزائی کی اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی روایت کو سراہا۔ اس اصلاحاتی عمل کے ذریعے متعارف کرائے گئے اقدامات سے پارلیمان کے ترقیاتی عمل میں کردارکو مزید موثر بنایا گیا۔ جنیوا میں منعقدہ بین الپارلیمانی یونین کے ماہرین کی گول میز کانفرنس کی دوسری نشست میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری سینٹ امجد پرویز ملک نے کہا کہ ترقی پسندانہ اصلاحاتی ماڈل کے تحت ترقیاتی عمل کے لیے سازگار ماحول پیداکرنے کے لئے پارلیمانوں کو اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو 2013کے سٹریٹجک منصوبے کے بارے میں تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایوان کا یہ پہلا اقدام تھا جسے 2015میں سیاسی قیادت کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور پارلیمانی گورننس کے معیار متعین کرنے میں مدد ملی۔








