اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے رائل پام گالف کلب لاہور کو غیر قانونی طور پر لیز پر دینے پر سابق سیکرٹری/چیئرمین ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ر) اشرف قاضی، سابق سیکرٹری/چیئرمین ریلوے بورڈ لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید الظفر، سابق جنرل منیجر (ایم اینڈ ایس) پاکستان ریلویز میجر جنرل (ر) حامد حسن بٹ، سابق جنرل منیجر آپریشنز پاکستان ریلویز اقبال صمد خان، سابق ممبر …
نیب راولپنڈی نے رائل پام گالف کلب لاہور کو غیر قانونی طور پر لیز پر دینے پر سابق افسران کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے رائل پام گالف کلب لاہور کو غیر قانونی طور پر لیز پر دینے پر سابق سیکرٹری/چیئرمین ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ر) اشرف قاضی، سابق سیکرٹری/چیئرمین ریلوے بورڈ لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید الظفر، سابق جنرل منیجر (ایم اینڈ ایس) پاکستان ریلویز میجر جنرل (ر) حامد حسن بٹ، سابق جنرل منیجر آپریشنز پاکستان ریلویز اقبال صمد خان، سابق ممبر فنانس پاکستان ریلوے خورشید احمد خان، ڈائریکٹوریٹ آف پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز بریگیڈیئر (ر) اختر علی بیگ، رائل پام گالف کلب کے سپانسرز رمضان شیخ، پرویز قریشی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ 2001ءمیں پاکستان ریلوے نے لاہور میں نہر کنارے قائم گالف کلب کو 33 سال کیلئے لیز پر دینے کی پیشکش کی۔ میکس کارپس پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت متعدد فرموں نے پیشکشیں جمع کرائیں۔ بولی کے دوران لیز کے عرصہ کو غیر قانونی طور پر 33 سال سے بڑھا کر 49 سال کر دیا گیا جبکہ ریلوے آفیسر کالونی کو منہدم کرکے غیر قانونی طریقہ سے پیش کی گئی اراضی کو بھی 103 ایکڑ سے بڑھا کر 140 ایکڑ کر دیا گیا۔








