وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے 108ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاءسے گفتگو

اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بیورو کریسی کو ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ناطے مو¿ثر ریاستی انتظام اور بہترین فیصلہ سازی کیلئے تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے دنیا کے نئے حقائق اپنانے چاہئیں، تکنیکی نوعیت کے پیچیدہ مسائل خصوصی تربیت اور موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات …

اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بیورو کریسی کو ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ناطے مو¿ثر ریاستی انتظام اور بہترین فیصلہ سازی کیلئے تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے دنیا کے نئے حقائق اپنانے چاہئیں، تکنیکی نوعیت کے پیچیدہ مسائل خصوصی تربیت اور موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں وزیراعظم آفس میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے 108ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں اقتصادی مسائل، سیکورٹی کے چیلنج اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی کے بعد خدمت کی بہتر فراہمی اور بہتر نظم و نسق کو یقینی بنانے کے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیورو کریسی کو ان چیلنجوں اور بالخصوص صوبائی سطح پر ان کا حل تلاش کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بعد ازاں وزیراعظم نے شرکاءسے ان کے خیالات بھی سنے اور قومی اہمیت کے مختلف معاملات کے حوالہ سے سوال دریافت کئے۔ انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایک مسلسل کاوش ہے جس میں انتہاءپسندی کا سبب بننے والی وجوہات اور عوامل کی بنیاد کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے بڑی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کو شکست دی ہے۔