اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ داعش کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں،باجوہ ڈاکٹرائن صرف سیکیورٹی سے متعلق ہے،کسی قانون کو بنانا اور ترمیم کرنا پارلیمنٹ کی صوابدید ہے،آرمی چیف نے 18 ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا،سوات کا امن بحال ہو چکا ہے،عوام وہاں بلا خوف و خطر آزادانہ طریقے …
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ داعش کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں،باجوہ ڈاکٹرائن صرف سیکیورٹی سے متعلق ہے،کسی قانون کو بنانا اور ترمیم کرنا پارلیمنٹ کی صوابدید ہے،آرمی چیف نے 18 ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا،سوات کا امن بحال ہو چکا ہے،عوام وہاں بلا خوف و خطر آزادانہ طریقے سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سوات مالاکنڈ ڈویژن کا ایک حصہ ہے جہاں 2008ءمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی تھی، سوات میں سانس لینا مشکل تھا، سوات میں لوگوں کے گلے کاٹے جا رہے تھے بلکہ یہاں تک کہ لوگوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا جا رہا تھا اس لیے وہاں آپریشن راہ راست شروع کیا گیا جو فاٹا کے آپریشن سے مختلف تھا کیونکہ ایک تو وہاں قبائلی کلچر موجود نہیں تھا اور وہاں کے لوگ بھی پرامن تھے جبکہ دوسرا وہاں سیاحت موجود تھی اور وہاں ہماری فروٹ کی ایک بہت بڑی مارکیٹ بھی موجود ہے، انہی تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے وہاں ایک کامیاب آپریشن کیا گیا جس کی وجہ سے آج الحمدللہ سوات کا امن بحال ہو چکا ہے اور لوگ وہاں بلا خوف و خطر آزادانہ طریقے سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔








