اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی )نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سابق کوآرڈینیٹر طارق پرویز نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی کے معاملات میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کو استعمال کرنا مسئلہ کا عارضی حل ہو سکتا ہے، مستقل نہیں، کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی اسی لئے فوجی عدالتوں کو توسیع دینا پڑی۔ انتہاءپسندی کے خاتمے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو …
سابق کوآرڈینیٹر نیکٹا طارق پرویز اور دیگر کا اسلام آباد انٹرنیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم فورم میں پینل ڈسکشن کے دوران اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی )نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سابق کوآرڈینیٹر طارق پرویز نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی کے معاملات میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کو استعمال کرنا مسئلہ کا عارضی حل ہو سکتا ہے، مستقل نہیں، کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی اسی لئے فوجی عدالتوں کو توسیع دینا پڑی۔ انتہاءپسندی کے خاتمے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو دہشت گرد دوبارہ ابھر سکتے ہیں۔ بدھ کو یہاں مقامی ہوٹل میں نیکٹا کے زیر اہتمام اسلام آباد انٹرنیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم فورم میں پینل ڈسکشن کے دوران انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر حکومت اور اپوزیشن سمیت سب متفق تھے، اس کے نتیجے میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی اور دہشت گرد حملوں میں بھی کمی آئی، کراچی میں زندگی معمول پر آئی، بلوچستان اور فاٹا میں بھی صورتحال بہتر ہوئی، آج ملک میں کہیں دہشت گردوں کا قبضہ نہیں ہے لیکن کریمنل جسٹس سسٹم اور اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی، عدالتوں سے سزائیں نہ ملنے کے باعث دہشت گرد رہا ہو جاتے تھے جس کی وجہ سے فوجی عدالتیں قائم کرنا پڑیں اور ان میں توسیع بھی کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ انتہاءپسندی ختم کرنے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو دہشت گرد پھر ابھر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ ہونی چاہئے اور کسی صورت ریاست کی عمل داری پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔








