اسلام آباد ۔ 7 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت مانیٹری اینڈ فسکل پالیسی کوآرڈینیشن بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ،سیکرٹری خزانہ، گورنر اسٹیٹ بنک اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مشیر خزانہ نے کہا کہ اس اجلاس میں ہمیں مانیٹری، فسکل اور ایکسچینج ریٹ پالیسیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ میکرو اکنامک …
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 7 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت مانیٹری اینڈ فسکل پالیسی کوآرڈینیشن بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ،سیکرٹری خزانہ، گورنر اسٹیٹ بنک اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر مشیر خزانہ نے کہا کہ اس اجلاس میں ہمیں مانیٹری، فسکل اور ایکسچینج ریٹ پالیسیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ میکرو اکنامک اہداف کا تسلسل یقینی بنانے سے متعلق موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کو ملک کی اقتصادی اور مالی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ گروتھ کے لیے معاون پالیسیوں کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی کارکردگی بڑھی ہے، رواں مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں افراط زر کی شرح 3.8 فیصد تک رہی جس کی وجہ موثر مانیٹری پالیسی اور اور اشیاءکی بہتر فراہمی ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ بھی متاثر کن رہی اور رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں اس شعبہ میں 6.3 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ سیمنٹ کی بڑھتی طلب اور چینی کی بہتر پیداور سے شرح نمو مزید بہتر ہو گی۔ برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور رواں مالی سال کے 8 ماہ کے دوران ان میں 12.2 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال 1.5 فیصد تھی۔








