پاکستان کی موثر سفارتی کوششوں کی بدولت نیوکلیئر سپلائزرگروپ کے اجلاس میں پاکستانی موقف کو تسلیم کیا گیا،اس بات کی تائید کی گئی کہ بھارت کو کسی قسم کا ایسا استثناءنہیں دیا جائے گا جس سے این ایس جی گروپ کے جوہری توانائی کے عدم پھیلاﺅ کے مقاصد پر منفی اثرات پڑیں سیکرٹری خارجہ اعزازاحمد چوہدری کی پی ٹی وی سے گفتگو اسلام آباد ۔ 25 جون(اے پی پی) سیکرٹری …
سیکرٹری خارجہ اعزازاحمد چوہدری کی پی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
پاکستان کی موثر سفارتی کوششوں کی بدولت نیوکلیئر سپلائزرگروپ کے اجلاس میں پاکستانی موقف کو تسلیم کیا گیا،اس بات کی تائید کی گئی کہ بھارت کو کسی قسم کا ایسا استثناءنہیں دیا جائے گا جس سے این ایس جی گروپ کے جوہری توانائی کے عدم پھیلاﺅ کے مقاصد پر منفی اثرات پڑیں
سیکرٹری خارجہ اعزازاحمد چوہدری کی پی ٹی وی سے گفتگو
اسلام آباد ۔ 25 جون(اے پی پی) سیکرٹری خارجہ اعزازاحمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی موثر سفارتی کوششوں کی بدولت نیوکلیئر سپلائزرگروپ (این ایس جی) کے سئیول میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی موقف کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس کے ارکان نے اس بات کی تائید کی ہے کہ بھارت کو کسی قسم کا ایسا استثناءنہیں دیا جائے گا جس سے این ایس جی گروپ کے جوہری توانائی کے عدم پھیلاﺅ کے مقاصد پر منفی اثرات پڑیں، صرف چین ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک نے بھی بھارت کی این ایس جی گروپ کی رکنیت کے حصول کیلئے دی جانے والی درخواست پر غور کرنے کا کہا ہے اور بتایا کہ ایسا کرنے سے گروپ کے مقاصد پر منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ یہ گروپ 1974ءمیں بنا ہی بھارت کے جوہری تجربے کے بعد تھا جس کا مقصد ہی جوہری توانائی کا عدم پھیلاﺅ ہے، چین نے اس اجلاس میں اپنا اصولی موقف اختیار کیا،(این ایس جی ) کی رکنیت کے لیے ایک سال سے بات چیت چل رہی ہے جس میں پاکستانی حکام اس کے تمام اراکین سے رابطے میں ہیںاور اپنا موقف کامیابی سے ان تک پہنچا چکے ہیں ،شروع سے ہی پاکستان کا موقف رہا ہے کہ بھارت کی ( این ایس جی ) کی رکنیت کی درخواست کو اگر اکیلے ہی قبول کر لیا گیا تو اس سے جنوبی ایشیائی خطے کا اسٹریٹجک استحکام متاثر ہو گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو پاکستان ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔







