ناجائز ذرائع سے اربوں روپے کے اثاثے بنانے کے الزامات ،نیب نے شہباز شریف ، حمزہ شبہباز، سلمان شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی،عبداللہ خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل و دیگرکے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دےدی

اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف ، محمد حمزہ شبہباز شریف، سلمان شہباز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، ان کے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی، سابق چیئرمین ایس ایس جی سی بورڈ مفتاح اسماعیل سمیت دیگر ملزمان کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی …

اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف ، محمد حمزہ شبہباز شریف، سلمان شہباز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، ان کے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی، سابق چیئرمین ایس ایس جی سی بورڈ مفتاح اسماعیل سمیت دیگر ملزمان کے خلاف بدعنوانی کے تین مختلف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، حمزہ شہاز شریف، سلمان شہباز شریف اور دیگر کے خلاف ناجائز ذرائع سے 7 ہزار 328 ملین روپے کے اثاثے بنانے کے الزام میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم میاں محمد شہباز شریف اور ان کے شریک ملزمان ان کے اہل خانہ بینیفشریز اور فرنٹ مین نے اپنی آمدن سے زائد 7328 ملین روپے کے اثاثہ بنائے۔ ملزمان نے بیرون ملک ترسیلات زر، قرضوں کے ذریعے اپنے ناجائز اثاثے بنائے جو کہ جعلی/مشتبہ ثابت ہوئے ہیں۔ ملزمان اپنے مفاد کے لئے اپنے جرائم کو چھپانے کے لئے اپنے ملازمین اور دیگر کے نام پر بے نامی کمپنیاں بنائیں ۔ نیب نے جکارتہ انڈونیشیا میں پاکستان کے سفارتخانے کی عمارت کی فروخت میں بدعنوانی سے متعلق وزارت خارجہ کے افسران اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ہے۔ 2001-02ءمیں میجر جنرل (ر) سید مصطفی انور حسین جکارتہ انڈونیشیا میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات تھے ۔ انہوں نے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے غیر شفاف طریقے سے کوڑیوں کے مول پاکستانی سفارتخانے کی عمارت فروخت کی جس سے قومی خزانہ کو 1.32 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا۔ چیئرمین نیب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ان کے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی، سابق چیئرمین ایس ایس جی سی بورڈ مفتاح اسماعیل ای ای ٹی پی ایل کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینجنگ ڈائریکٹر پی ایس او شیخ عمران الحق، سابق چیئرمین پی کیو اے آغا جان اختر،سابق چیئرمین اوگراسعید احمد خان، سابق ممبر آئل اوگرا عامر نسیم، سابق چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل خان، سابق مینجنگ ڈائریکٹر پی ایس او شاہد ایم اسلام، چیئرمین اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ حسین داﺅد، ڈائریکٹر اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ عبدالصمد داﺅد اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی ہے۔ ملزمان نے غیر شفاف طریقے سے ایل این جی ٹرمینل ون کا ٹھیکہ دیا۔ ملزمان نے ملی بھگت سے ای ای ٹی ایل کے ایل این جی ٹرمینل ون کے سلسلہ میں ای ای ٹی ایل/ ای ٹی پی ایل/ ای سی ایل کو غلط طریقے سے 14.146 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا اور انہوں نے مارچ 2015ءسے ستمبر 2019ءتک پی جی پی ایل کے دوسرے ایل این جی ٹرمینل کی صلاحیتوں کواستعمال نہ کرکے غلط طریقے سے تقریباً 7.438 ارب روپے کا نقصان پہنچایا جبکہ ستمبر 2019ءتک کل واجبات تقریباً 21.584 ارب روپے بنتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ آئندہ 10 سال کے لئے ہے جس کے نقصان کی مجموعی رقم 47 ارب روپے بنتی ہے کیونکہ اس معاہدہ کی مدت مارچ 2029ءمیں ختم ہو گی۔ 2013ءسے 2017ءکے دوران عبداللہ خاقان عباسی کے اکاﺅنٹ میں 1.426 ارب روپے اور شاہد خاقان عباسی کے بینک اکاﺅنٹس میں 1.294 ارب روپے جمع ہوئے جن کی وضاحت نہیں کی گئی اور اسی عرصے کے دوران ایل این جی ٹرمینل معاہدہ کیا گیا۔ مذکورہ رقوم کی وصولی اور جمع کرانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ منی لانڈرنگ کی ۔