راولپنڈی کچہری چوک منصوبہ سے متاثر ہ وکلاء کو حکومت پنجاب مکمل معاوضہ فراہم کرے گی ،وفاقی وزیر قانون

راولپنڈی ۔1جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ راولپنڈی کچہری چوک منصوبہ کی وجہ سے جو وکلاء متاثر ہوئے انہیں حکومت پنجاب مکمل معاوضہ فراہم کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب چیمبرز کی جگہ کے بدلے وکلا کو ایک ہینڈسم رقم ادا کرے گی جبکہ آئندہ منگل کو وزارتِ قانون کی جانب سے تین کروڑ روپے متعلقہ اکاؤنٹ میں منتقل کر …

راولپنڈی ۔1جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ راولپنڈی کچہری چوک منصوبہ کی وجہ سے جو وکلاء متاثر ہوئے انہیں حکومت پنجاب مکمل معاوضہ فراہم کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب چیمبرز کی جگہ کے بدلے وکلا کو ایک ہینڈسم رقم ادا کرے گی جبکہ آئندہ منگل کو وزارتِ قانون کی جانب سے تین کروڑ روپے متعلقہ اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے جائیں گے، جس کے تحت 64 وکلا کو فی چیمبر پانچ پانچ لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے زیر اہتمام وکلاء چیمبرز کی سنگِ بنیاد اور اسرار شہید یوتھ ہال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ راولپنڈی کچہری پہنچے اور وکلا کے ہمراہ سائٹ وزٹ بھی کیا۔اپنے خطاب میں وزیر قانون نے کہا کہ اگرچہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے ان کا براہِ راست پیشہ ورانہ تعلق نہیں رہا، تاہم ان کے شاگرد آج بھی اس بار کو ووٹ دیتے ہیں۔

انہوں نے راولپنڈی بار کے ایک پیچیدہ مسئلہ کو بہتر انداز میں حل کرنے پر بار قیادت کا شکریہ ادا کیا۔عظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ بطور وزیر قانون ان کا تعلق ملک کی تمام بارز سے ہے اور وہ بار کو سیاست سے الگ رکھنے کے قائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ یہ نہیں بتاتے کہ آئینی عدالت کے قیام سے عدلیہ مزید مضبوط اور شفاف ہوئی ہے۔

26 اور 27 آئینی ترامیم پر تنقید ہوئی، لیکن وکلا برادری نے خود کو اس تنازع سے الگ رکھا جو قابلِ تحسین عمل ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا کہ حکومت اور عدلیہ کی کوئی انا نہیں ہوتی، دونوں لیٹر آف لا کے تابع ہوتی ہیں۔

درین اثناء انہوں نے اعلان کیا کہ ملک اسرار احمد شہید کے لواحقین کو امدادی پیکیج کی فراہمی کا معاملہ بھی جلد حل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب بھی جلد راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کو واجب الادا ادائیگیاں مکمل کر دے گی، تاکہ وکلا کو درپیش مسائل کا مستقل اور پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے۔