ہمیں اپنے وزیراعظم کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا، ہمیں تفریق کو بھول کر اس ادارے کی جنگ لڑنا ہو گی، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایوان زیریں کا فرض بنتا ہے کہ سہولت کاری کے آگے دیوار بن جائے، وزراء اعظم کی گردنیں لینے کی روش ختم ہونی چاہئے، ہمیں اپنے وزیراعظم کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس ایوان میں موجود عوامی نمائندگان کروڑوں ووٹ …

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایوان زیریں کا فرض بنتا ہے کہ سہولت کاری کے آگے دیوار بن جائے، وزراء اعظم کی گردنیں لینے کی روش ختم ہونی چاہئے، ہمیں اپنے وزیراعظم کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس ایوان میں موجود عوامی نمائندگان کروڑوں ووٹ لے کر بیٹھے ہیں، ان کے پاس یہ مینڈیٹ پاکستان کے عوام کا دیا ہوا ہے، اس مینڈیٹ پر وقتاً فوقتاً سوالیہ نشان اٹھتے رہے ہیں، ہم عوام کے پاس جا کر اس مینڈیٹ کی تجدید کراتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کے علاوہ کسی نے پاکستان کی اتنی خدمت نہیں کی، ایک ادارے نے پارلیمنٹ کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کیا ہے، ہماری کوئی بات راز نہیں رہتی، یہ ٹی وی پر براہ راست جاتی ہے، ہمیں سپریم کورٹ کا احترام ہے، جتنی بھی کارروائی کی تفصیل مانگتے ہیں دی جائے۔ انہوں نے سپیکر سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ سے تفصیل طلب کی جائے، یہ ایوان پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے عدالت کا کام مذاکرات کا مشورہ دینا نہیں ہے، یہ آئین میں کہیں نہیں لکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان کا فرض بنتا ہے کہ سہولت کاری کے آگے دیوار بن جائے، وزراء اعظم کی گردنیں لینے کی روش ختم کی جائے، ہمیں اپنے وزیراعظم کا تحفظ کرنا ہوگا،

اس کیلئے ہمیں اپنی اپنی تفریق کو بھول کر اس ادارے کی جنگ لڑنی پڑے گی، ہم سیاسی جنگیں پہلے بھی لڑتے رہے ہیں، اس ادارے کا پہلے بھی خون کیا گیا، اس کا حساب کون دے گا، جنرل مشرف کو آئینی ترمیم کرنے کا بھی اختیار دیا گیا، فرد واحد کے اقتدار کی خواہشات پر جمہوریت کا بار بار خون ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں، ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دست و گریبان رہیں، اس کے بعد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے، اس کے بعد دو اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی، یہ ایوان مقتدر ہے، آئین سے ماورا کوئی بات نہیں ہو گی، عوام کے ہاتھ ہمارے گریبان پر ہوتے ہیں، ہر پانچ سال بعد عوام کو حساب دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے والد نے ان اسمبلیوں میں 72 سال گزارے ہیں مگر ہمارے پاس ایک پلاٹ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس برادری کے لوگوں نے ایک سیاسی جماعت کی ٹکٹوں کے ایک کروڑ 20 لاکھ لئے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کی نااہلیوں کا حساب لینے کیلئے اس ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے، ہم نے آمروں کی حمایت کی قیمت ادا کی مگر انہوں نے کوئی قیمت ادا نہیں کی، ان کے جن جن ججوں نے آئین شکنی کی ان کو بھی ایوان کی کمیٹی میں طلب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اپنے دفاع کیلئے کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری، نواز شریف کی صاحبزادی اور میری اہلیہ سمیت خواتین کو بھی انہوں نے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا، ہمیں لیکچر دینے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے آئین اور قانون کے مطابق اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا تھا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ کیا ہوا ، اس طرح نہیں چلے گا، ایک کمیٹی قائم کرکے عدلیہ کے 1947ء سے اب تک آئین کے برعکس فیصلوں کا جائزہ لیا جائے۔