گومل یونیورسٹی میں مبینہ جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے، جہاں 514 مشکوک ڈگریوں کی نشاندہی کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے
گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل بے نقاب، تحقیقات کا دائرہ وسیع

مزید خبریں
پشاور۔ 03 جون (اے پی پی):گومل یونیورسٹی میں مبینہ جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے، جہاں 514 مشکوک ڈگریوں کی نشاندہی کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا سراغ موجودہ انتظامیہ نے لگایا، جس کے بعد سنڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں سابق ڈائریکٹر افیلی ایشن کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ سابق کنٹرولر امتحانات کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران سینکڑوں ڈگریاں مشکوک قرار دی گئی ہیں اور ان کی منسوخی کی سفارش کی گئی ہے۔ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے نئی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جبکہ مالی خرد برد کے الزامات کی اعلیٰ سطح پر چھان بین جاری ہے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ گومل یونیورسٹی سکینڈل میں ملوث عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کا سخت احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں احتساب اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے نظام کو کرپشن اور جعلی ڈگری مافیا سے پاک کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔








