، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا ”علم پالیسی ڈائیلاگ“ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سکول سے باہر بچوں اور بچیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب ارکان اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں اس حوالہ سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، مختلف وظائف اور مراعات کی ترغیب دے کر سکول سے باہر بچوں اور بچیوں کو تعلیمی دھارے میں لایا جا …

اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سکول سے باہر بچوں اور بچیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب ارکان اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں اس حوالہ سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، مختلف وظائف اور مراعات کی ترغیب دے کر سکول سے باہر بچوں اور بچیوں کو تعلیمی دھارے میں لایا جا سکتا ہے، تمام فریقین سے مشاورت کے ذریعے اس سلسلہ میں مو¿ثر اور جامع پالیسی مرتب کرکے آگے بڑھنا ہو گا۔ وہ بدھ کو سکول سے باہر بچوں پر خصوصی توجہ دینے پر علم پالیسی ڈائیلاگ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نجیب الدین اویسی، چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے تعلیم پنجاب عائشہ نواز، وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم محمد خان لہڑی، سیکرٹری تعلیم صوبہ سندھ قاضی شاہد پرویز، سیکرٹری تعلیم صوبہ خیبرپختونخوا ارشد خان بھی شریک تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں آپ تمام کا خصوصاً پپس کی انتظامیہ، برٹش کونسل اور علم پوسبل کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے سکول سے باہر بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے علم پالیسی ڈائیلاگ کا اہتمام کیا، اس ڈائیلاگ میں تمام صوبوں کی شرکت سے اس کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے، یقیناً یہ ڈائیلاگ کامیاب رہے گا اور اس کے دور رس مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ”تعلیم پاکستان کےلئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے“۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ تعلیمی میدان میں ناگزیر ترقی کے بغیر ہم (دنیا سے) پیچھے رہ جائیں گے۔ اسد قیصر نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اس دوٹوک اور واضح مو¿قف کے بعد تعلیم کی اہمیت کے بارے میں کوئی دو رائے قائم نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25۔ اے بھی پاکستان کے بچوں کے تعلیم حاصل کرنے کی بنیادی حق کو تحفظ دیتا ہے، آئین میں درج ہے کہ ریاست 5 سے 16 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کےلئے مذکورہ طریقہ کار، جیسا کہ قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے، مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی، تعلیم کے سلسلہ میں ریاست مدینہ کی تین اہم باتیں ذہن نشین رکھنے کے قابل ہیں، قرآن مجید کی پہلی وحی ”اقراءبِاسم ربِک الذی خلق“ یعنی ”(اے حبیب) اپنے رب کے نام سے آغاز کرتے ہوئے) پڑھیے جس نے ہرچیز کو پیدا فرمایا“ کے عظیم حکم پر مشتمل ہے، اس پر غور کریں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ ہم نے دینی علوم بھی پڑھنے ہیں (اللہ کے نام سے)، ہم نے سائنسی علوم بھی پڑھنے ہیں (یعنی تخلیق کے مراحل کو سمجھنے کا بھی اشارہ دیا گیا ہے۔

Leave a Reply