آئندہ بجٹ میں برآمدی صنعتوں کیلئے جامع پیکج دیا جائے، چیئر پرسن سی ٹی آئی اعجاز الرحمن

کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(سی ٹی آئی) کے چیئر پرسن اعجاز الرحمن نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کیلئے جامع پیکج دیا جائے

اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(سی ٹی آئی) کے چیئر پرسن اعجاز الرحمن نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کیلئے جامع پیکج دیا جائے ،پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی آج بھی عالمی سطح پر مانگ بہت زیادہ ہے اوردرست حکمت عملی اپنا کر پاکستان دوبارہ اس صنعت کو برآمدات کا مضبوط ستون بنا سکتا ہے۔ اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں اعجاز الرحمن نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت سے وابستہ افراد بھی اپنی کمی کوتاہیاں دور کرنے کیلئے توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں تاہم حالیہ معاشی دبائو، بڑھتی پیداواری لاگت اور عالمی مسابقت کے باعث یہ صنعت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

موجودہ حالات کے باوجود اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں بشرطیکہ جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات اور عملی اقدامات کیے جائیں،اس حوالے سے کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اہم کردار ادا کررہا ہے جہاں ہنرمندوں کو نہ صرف روایتی قالین بافی بلکہ جدید ڈیزائننگ اور مارکیٹنگ کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعت کو درپیش مسائل میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، ہنرمند کاریگروں کی کمی اور برآمدی منڈیوں تک محدود رسائی شامل ہیں۔اگر اس صنعت کو دوبارہ مستحکم کرنا ہے تو سب سے پہلے ہنرمند افراد کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا ہوگی، انہیں بہتر معاوضہ، سماجی تحفظ اور نوجوان نسل کو اس ہنر کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہو چکا ہے، ای کامرس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن نمائشوں کے ذریعے پاکستانی قالینوں کو عالمی منڈی تک براہ راست پہنچایا جا سکتا ہے جس سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ان اقدامات کے لئے حکومتی سطح پر معاونت کی ضرورت ہے جن میں برآمد کنندگان کے لیے سبسڈی، آسان قرضوں کی فراہمی اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے مواقع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رجحانات کے مطابق ڈیزائنوں کے شعبے میں جدت بھی اس صنعت کی بحالی کے لیے اہم ہے تاکہ عالمی خریداروں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔