آئندہ مالی سال کا بجٹ ہمارے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کا عکاس ہے،وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام

آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کا عکاس ہے، وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے جو پاکستان کو جدت پر مبنی اور ڈیجیٹل معیشت کے طور پر تیز رفتار ترقی دے گا، جمعہ 12 جون کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل پیش کیا جس میں اصلاحات …

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کا عکاس ہے، وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے جو پاکستان کو جدت پر مبنی اور ڈیجیٹل معیشت کے طور پر تیز رفتار ترقی دے گا، جمعہ 12 جون کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل پیش کیا جس میں اصلاحات کا سلسلہ متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد ریگولیٹری استحکام کو یقینی بنانا ، کاروباری لاگت میں کمی ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مستحکم کرنا ہے۔

وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر محمد اورنگزیب نے جاری مالی سال کے دوران آئی ٹی کی قومی برآمدات کاحجم 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی کامیابی کو اجاگر کیا جو سالانہ 20 فیصد کی نمو کو ظاہر کرتا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور آئی ٹی کی خدمات کے سیکٹر کےلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کلیدی اصلاحات شامل کی گئی ہیں جس میں سے سیکشن 154 اے کے تحت آئی ٹی کی برآمدات کےلئے 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس کی شرح میں توسیع بھی شامل ہے، قبل ازیں 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی اس رعایت کو اب ٹیکس سال 2029 تک بڑھا دیا گیا ہے جو برآمد کنندگان اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کےلئے طویل المدتی ٹیکس کی یقین دہانی فراہم کرتا ہے۔مزید برآں ریلیف کے ایک اور اقدام کے تحت حکومت نے کریڈٹ ، ڈیبٹ اور پری پیڈ کارڈز کے ذریعے کی جانے والی غیر ملکی ادائیگیوں پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد سے 0.5 فیصد تک کم کر دیا ہے۔

ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں 90 فیصد کی کمی ، ٹیکنالوجی کی کمپنیوں اور فری لانسز کے لئے بین الاقوامی سافٹ ویئر لائسنز ، کلائوڈ سروسز اور ایس اے اے ایس سبسکرپشنز کی لاگت کو کم کرے گی جبکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت کے صارفین کو بھی فائدہ پہنچائے گی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار پیشہ ور افراد کےلئے 35 فیصد ٹیکس کےلئے آمدنی کی حد کو 4.1 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے سالانہ کر کے ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ سرچارج کو بھی ختم کردیا ہے۔

مزید برآں ایف بی آر سسٹم انٹی گریشن کےلئے 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ متعارف کرانے سے کاروباری شعبہ کو قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے منسلک ہونے اور سافٹ ویئر ونڈرز اور سسٹم انٹی گریٹرز کےلئے نئے مواقع پیدا کرنے کی کی ترغیب بھی ملے گی۔ ٹیلی کام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کےلئے متعارف کرائی گئی کلیدی اصلاحات سے سب میرین کیبل اور لینڈنگ سٹیشن کے آلات پر صفر فیصد کسٹم ڈیوٹی سے بین الاقوامی کنکٹیوٹی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ بجٹ میں سمارٹ فونز پر کسٹمز ڈیوٹی کی صفر فیصد موجودہ شرح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے اور صارفین اور کاروبار کےلئے مسلسل سستی اور سمارٹ ڈیوائسز تک رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعارف کرائی گئی ایک قابل ذکر تبدیلی فیوچر فونز پر عائد 250 روپے کی کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ بھی ہے ، اس اقدام سے موبائل کنکٹیوٹی تک آسان ، باسہولت اور وسیع تر رسائی کی توقع ہے، یہ اقدام خاص طور پر پہلی مرتبہ کم آمدنی والے صارفین کےلئے کیا گیا ہے۔ فنانس بل میں گھریلو سم اور سمارٹ کارڈ مینوفیکچررز کی طرف سے استعمال ہونے والے خام مال کےلئے ڈیوٹی کے موجودہ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جو پہلے ہی صفر فیصد ڈیوٹی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ مزید برآں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) کو سیکشن 153 کے ود ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد کیش فلو کی بہتری اور پبلک ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے ۔

سٹارٹ اپ اور وینچر کیپیٹل کےلئے فنانس بل میں اہم ساختی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن کا مقصد پاکستان کے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو درپیش دیرینہ چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ شق 43 ایف کے تحت سٹارٹ اپس کو سیکشن 153 کے ودہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جس سے انہیں ٹیکس کی واپسی کے طویل عمل میں کیش کے بغیر کسٹمز کی ادائیگیوں کی پوری قیمت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بجٹ میں شق 57 (2) کے تحت وینچر کیپیٹل فنڈز کے لئے ٹیکس پاس تھرو ٹریٹمنٹ کو بھی بحال رکھا گیا ہے ۔ حکومت نے 500 ملین روپے سے کم آمدنی والی کمپنیوں کےلئے سپر ٹیکس کو ختم کردیا ہے اور اس حد سے زیادہ کمانے والے کاروبار کےلئے ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر 8 فیصد کردی ہے، ٹیکس کی شرح میں کی جانے والی ان تبدیلیوں سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بنیادی ڈھانچے کی جدت اور توسیع میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کےلئے متعارف کرائے گئے اقدام میں حکومت نے پاکستان کے رہائشیوں کے غیر ملکی منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کو بھی ختم کردیا ہے جو بیرون ملک سرمایہ کو راغب کرنے اور ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کو مستحکم بنانے کے عزم کا اشارہ ہے، وزارت آئی ٹی ڈیجیٹل سیکٹر میں متعارف کرائی گئی ان اصلاحات کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ ڈیجیٹل تبدیلی کے تذویراتی عزم کی نمائندگی کرتا ہے اور حکومت پاکستان کے ایک لچکدار ، مسابقتی اور مستقبل کےلئے تیار رہنے کے عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہمارے منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جبکہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹرٹیجک رہنمائی پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی انتھک حمایت کو بھی تسلیم کرتی ہے، وفاقی بجٹ 27-2026 میں متعارف کرائی اصلاحات اجتماعی طور پر بہت سی ساختی رکاوٹوں کو دور کرتی ہیں جس سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریٹنگ اخراجات میں کمی ، بہتر ٹیکس کی یقین دہانی ، ٹیلنٹ برقرار رکھنے ، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور وینچر کیپٹل تک بڑھتی ہوئی رسائی سے توقع کی جاتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے کی برآمدات اور روزگار کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔