آئیسکو نے 2025 کے دوران بجلی کی چوری سے متعلق مقدمات میں 95 فیصد ریکوری حاصل کی، انجینئر خالد محمود

اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئی ای ایس سی او) کے سربراہ انجینئر خالد محمود نے کہا ہے کہ آئیسکو نے 2025 کے دوران بجلی کی چوری سے متعلق مقدمات میں 95 فیصد ریکوری حاصل کی، ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے طے کردہ ہدف کے مطابق سنگل ڈیجٹ تک کم کر دیا گیا۔’’اے پی …

اسلام آباد۔8مارچ (اے پی پی):اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئی ای ایس سی او) کے سربراہ انجینئر خالد محمود نے کہا ہے کہ آئیسکو نے 2025 کے دوران بجلی کی چوری سے متعلق مقدمات میں 95 فیصد ریکوری حاصل کی، ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے طے کردہ ہدف کے مطابق سنگل ڈیجٹ تک کم کر دیا گیا۔’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی انٹرویو میں آئیسکو کے سربراہ انجینئر خالد محمود نے کہا کہ کمپنی نے سال کے دوران بجلی کی چوری کے خلاف 2,092 ایف آئی آرز درج کیں اور 785 افراد کو گرفتار کیا۔ مجموعی طور پر 34 لاکھ 2 ہزار 341 یونٹس چوروں پر چارج کیے گئے، جبکہ ڈیٹیکشن بلنگ کی مد میں 17 کروڑ 78 لاکھ 80 ہزار روپے کا بل جاری کیا گیا، جس میں سے 16 کروڑ 89 لاکھ روپے کی ریکوری ہوئی، جو 95 فیصد ریکوری کی شرح کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی نے راولپنڈی ریجن میں 12 لاکھ جدید ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) میٹرز کی تنصیب کا ہدف بھی کامیابی سے مکمل کر لیا ہے،جو شفافیت بہتر کرنے اور بجلی کے نقصانات کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارہ کہو، نیلور، ترنول،گولڑہ اور راول روڈ سمیت علاقوں میں بجلی کی چوری کے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان علاقوں میں غیر قانونی ہکس اور ڈائریکٹ کنکشنز کو روکنے کے لیے ایریل بنڈلڈ کیبل (اے بی سی) سسٹم متعارف کرایا گیا، جس سے لائن لاسز میں نمایاں کمی آئی۔ سرکل وار تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ یعنی 818 ایف آئی آرز اٹک سرکل میں درج کی گئیں، اس کے بعد راولپنڈی سٹی میں 318، اسلام آباد میں 303، چکوال میں 237، راولپنڈی کینٹ میں 283 اور جہلم میں 133،راولپنڈی کینٹ نے 100 فیصد ریکوری کی شرح حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی چوری کے زیادہ تر کیسز میں ڈائریکٹ سپلائی یا لوپ کنکشن شامل تھے، جو 1,900 واقعات تھے، جبکہ 192 کیسز میں میٹر ٹیمپرنگ، ٹلٹنگ یا شنٹ طریقے استعمال کیے گئے۔

آئی ای ایس سی او کے چیف نے کہا کہ کمپنی کی آپریشنز ٹیمیں اور میٹر اینڈ ٹیسٹنگ (ایم اینڈ ٹی) سرویلنس یونٹس کی مشترکہ کارروائیاں گھریلو، کمرشل، صنعتی اور زرعی شعبوں میں تیز کر دی گئی ہیں۔ نفاذی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ کمپنی سوشل میڈیا سمیت آگاہی مہمات بھی چلا رہی ہے تاکہ بجلی کی چوری کو روکا جا سکے۔صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہیلپ لائن 118 پر بجلی کی چوری کی رپورٹ کریں، یقین دلایا گیا ہے کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سسٹم کو مضبوط کرنے سے لائن لاسز میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ اے ٹی اینڈ سی کارکردگی نیپرا کے مقررہ ہدف کے مطابق سنگل ڈیجٹ تک بہتر ہو گئی ہے، جو موثر مانیٹرنگ اور آپریشنل اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اے ایم آئی سید محسن رضا گیلانی کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی قیادت میں راولپنڈی ریجن میں اب تک تقریباً 12 لاکھ سمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔ اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب سے نہ صرف ریکوری ریٹ بہتر ہوئے بلکہ درست بلنگ، خودکار میٹر ریڈنگ، بجلی کی چوری پر بہتر کنٹرول، سسٹم اوور لوڈنگ میں کمی اور ٹرانسفارمر اور میٹر جلنے کے واقعات میں بھی کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمرز پر سکیننگ میٹرز بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ پاور ڈسٹری بیوشن سسٹم میں مانیٹرنگ اور شفافیت بڑھائی جا سکے۔

صارفین کی سہولیات کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے آئی ای ایس سی او کے چیف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری کے وژن کے مطابق مختلف مقامات پر کسٹمر فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں آئی ای ایس سی او ہیڈ آفس، جی-9 اور منڈیر چوک شامل ہیں۔ یہ سینٹرز بجلی کے بلوں کی قسطیں، ڈیو ڈیٹ میں توسیع، بل کی درستگی، نام اور پتے کی تبدیلی، شکایات کی رجسٹریشن، بجلی کی خرابی کی رپورٹنگ اور نئی بجلی کنکشنز کے لیے درخواستوں کی جمع آوری جیسی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سینٹرز پر جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے تاکہ صارفین کو تیز اور موثر خدمات فراہم کی جا سکیں اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں مزید شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔