اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ آئین پاکستان ہر شہری کو بلا امتیاز مذہب، علاقہ اور سماجی حیثیت مساوی انصاف کی ضمانت دیتا ہے ،عدلیہ اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک خود جا کر نظام انصاف کا جائزہ لے رہی ہے، انصاف صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ باعزت ماحول، بنیادی سہولیات …
آئین پاکستان ہر شہری کو بلا امتیاز مذہب، علاقہ اور سماجی حیثیت مساوی انصاف کی ضمانت دیتا ہے،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ آئین پاکستان ہر شہری کو بلا امتیاز مذہب، علاقہ اور سماجی حیثیت مساوی انصاف کی ضمانت دیتا ہے ،عدلیہ اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک خود جا کر نظام انصاف کا جائزہ لے رہی ہے، انصاف صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ باعزت ماحول، بنیادی سہولیات اور عوام دوست عدالتی نظام بھی موثر انصاف کا لازمی جزو ہیں۔
ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آف پاکستان نے منگل کو ضلع تھرپارکر کے دورے کے موقع پر کیا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان (ایل جے سی پی) نے ملک کے دور افتادہ ضلع تھرپارکر کا دورہ کیا جہاں انسانی ترقی کا اشاریہ کم ہے اور اقلیتی برادری کی بڑی آبادی آباد ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ننگرپارکر میں سول کورٹ کمپلیکس کا دورہ کیا اور عدالتی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ نظام انصاف میں وقار اور موثریت کے لیے عوامی سہولیات کی دستیابی ناگزیر ہے۔ انہوں نے شدید موسمی حالات اور محدود وسائل کے باوجود فراہم کی گئی بنیادی سہولیات جن میں ویمن فسیلیٹیشن سینٹر، صاف پینے کا پانی، سولرائزیشن اور ای لائبریری شامل ہیں، کو سراہا۔چیف جسٹس کی زیر صدارت میرپورخاص ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، بار ایسوسی ایشن مٹھی، عمرکوٹ اور ننگرپارکر کے وکلاء کے ساتھ انٹریکشن اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں بینچ اور بار کے مابین تعمیری تعاون کو موثر انصاف اور عوامی اعتماد کی بنیاد قرار دیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے تاریخی کاسبو مندر اور چریو جبل درگا ماتا مندر کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مذہبی آزادی کے تحفظ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عدلیہ کے آئینی کردار کا اعادہ کیا۔ یہ دورہ پاکستان کے کثیرالثقافتی معاشرتی ڈھانچے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے ریاستی عزم کی علامت قرار دیا گیا۔بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے مٹھی میں ضلعی عدالت کمپلیکس کا دورہ کیا اور عدالتی امور، مقدمات کے انتظام، انفراسٹرکچر کی ضروریات اور خواتین دوست سہولیات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ رسائی، صفائی اور دیگر عملی خامیوں کو لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے ترقیاتی فریم ورک کے تحت باضابطہ طور پر دستاویزی شکل دی جائے تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی فیلڈ بیسڈ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد نظام انصاف میں موجود خلا کی نشاندہی اور ہدفی اصلاحات کے ذریعے آئینی ضمانتوں کو تمام شہریوں کے لیے عملی حقیقت میں تبدیل کرنا ہے۔








