آئی او سی نے یوکرینی کھلاڑی کو جنگ کے متاثرین کی تصاویر والا ہیلمٹ پہننے سے روک دیا

کورٹینا۔10فروری (اے پی پی):یوکرین کے معروف سکیلیٹن ریسَر ولادیسلاو ہیرسکیوِچ نے الزام عائد کیا ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) نے ان کے اس ہیلمٹ پر پابندی عائد کر دی ہے جس پر یوکرین میں جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے دل کو توڑ دینے …

کورٹینا۔10فروری (اے پی پی):یوکرین کے معروف سکیلیٹن ریسَر ولادیسلاو ہیرسکیوِچ نے الزام عائد کیا ہے کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) نے ان کے اس ہیلمٹ پر پابندی عائد کر دی ہے جس پر یوکرین میں جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے دل کو توڑ دینے والا ہے۔26 سالہ ولادیسلاو ہیرسکیوِچ نے یہ ہیلمٹ سرمائی اولمپکس کی تربیتی نشست کے دوران استعمال کیا تھا اور اس سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ کھیلوں کے اس عالمی ایونٹ کو یوکرین میں جاری جنگ کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے استعمال کریں گے۔

ولادیسلاو ہیرسکیوِچ کے مطابق اولمپک حکام نے انہیں آگاہ کیا کہ اولمپک چارٹر کے قانون 50.2 کے تحت کھیلوں کے مقامات پر کسی بھی قسم کی سیاسی، مذہبی یا نسلی تشہیر کی اجازت نہیں، اسی بنیاد پر ہیلمٹ کے استعمال پر پابندی لگائی گئی۔ تاہم آئی او سی نے تاحال اس پابندی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔یوکرینی کھلاڑی نے کہا کہ ان کے ہیلمٹ پر موجود کئی تصاویر ایسے کھلاڑیوں کی تھیں جو جنگ میں ہلاک ہوئے، جن میں نوعمر ویٹ لفٹر الینا پیریگودووا، باکسر پاولو اشچینکو اور آئس ہاکی کھلاڑی اولیکسی لوگینوف شامل ہیں، جبکہ بعض ان کے ذاتی دوست بھی تھے۔

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہیرسکیوِچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کو یوکرین کی جدوجہد کی قیمت یاد دلانے پر قابلِ تحسین ہیں، اور یہ سچ کسی صورت سیاسی مظاہرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔واضح رہے کہ ولادیسلاو ہیرسکیوِچ 2022 کے بیجنگ اولمپکس میں بھی ’نو وار اِن یوکرین‘ کا پلے کارڈ اٹھا کر سامنے آئے تھے۔ دوسری جانب روس اور بیلاروس کے کھلاڑیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد چند روسی کھلاڑیوں کو غیر جانبدار حیثیت میں مقابلوں کی اجازت دی جا چکی ہے، جس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔بی بی سی کے مطابق آئی او سی سے اس معاملے پر مزید وضاحت طلب کی گئی ہے۔