عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان +سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ہفتہ کوآئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق یہ رقم ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔
آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرض ملنے کی راہ ہموار

مزید خبریں
واشنگٹن ڈی سی۔28مارچ (اے پی پی):عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان +سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ہفتہ کوآئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق یہ رقم ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔
معاہدہ 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے اور 28 ماہ کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی تکمیل کے بعد طے پایا۔ دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی فنڈنگ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور خسارہ کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ ٹیکس نظام میں بہتری، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے اقدامات جاری ہیں۔
حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے 1.6 فیصد پرائمری سرپلس اور 2027 میں اسے 2 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بہتری آئی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم ہوئے ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، توانائی کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سخت مالی حالات معیشت کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔اعلامیے کے مطابق سٹیٹ بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر شرح سود میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔حکومت نے سماجی تحفظ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید مضبوط بنانے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے اور کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت گردشی قرضے میں کمی، بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، نجکاری اور قابل تجدید توانائی کے فروغ پر زور دیا گیا ہے، جبکہ بجلی کے نظام کو مستحکم اور پائیدار بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے گورننس بہتر بنانے، کرپشن میں کمی، کاروباری ماحول کو سازگار بنانے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کے آڈٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے، ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداوار کی نگرانی کے نظام کو وسعت دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان محتاط مالی پالیسی، قرضوں میں کمی اور طویل مدتی مالیاتی حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بھی زور دیا گیا ہے۔مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف وفد نے کراچی اور اسلام آباد کے دورے کیے، جہاں دونوں پروگرامز کے جائزے مکمل کیے گئے۔ حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔








