انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی)نےا پنی سالانہ رپورٹ 2025 جاری کر دی جو پاکستان کے امتحانی و تشخیصی نظام میں ایک اہم تبدیلی کے سال کی عکاسی کرتی ہے۔
آئی بی سی سی نے سالانہ رپورٹ2025 جاری کردی، رپورٹ امتحانی و تشخیصی نظام میں اہم تبدیلی کے سال کی عکاس ہے
اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی)نےا پنی سالانہ رپورٹ 2025 جاری کر دی جو پاکستان کے امتحانی و تشخیصی نظام میں ایک اہم تبدیلی کے سال کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی بی سی سی نے رٹہ سسٹم سے ہٹ کر سمجھ پر مبنی (تصوراتی) تعلیم کو فروغ دیا ہے، اس مقصد کے لئے ملک بھر میں ماڈل اسیسمنٹ فریم ورک (ایم اے ایف) نافذ کیا گیا۔ اس کے تحت اساتذہ اور امتحانی ماہرین کو جدید طریقوں جیسے سٹوڈنٹ لرننگ آؤٹ کمز (ایس ایل اوز)، بلومز ٹیکسانومی اور بہتر سوال بنانے کی تربیت دی گئی جس سے امتحانات کو زیادہ شفاف اور معیاری بنایا گیا۔ سال 2025 میں ایک بڑی پیش رفت ون ونڈو ڈیجیٹل ویریفکیشن، اٹیسٹیشن اور ایکویویلنس سسٹم کا آغاز تھا۔ اس سے طلبہ کے لئے تمام خدمات آسان، شفاف اور آن لائن ہو گئی ہیں اور اب تصدیق کا عمل بھی تیز اور محفوظ ہو گیا ہے۔آئی بی سی سی نے نیشنل آئٹم بینک قائم کر کے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھا کر امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی امتحانی بورڈز کے لئے ایک نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا تاکہ ان کی اسناد قومی معیار کے مطابق ہوں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ سالانہ رپورٹ 2025 اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم پاکستان کے امتحانی نظام کو شفاف، منصفانہ اور عالمی معیار کے مطابق بنا رہے ہیں، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جو نوجوانوں کی ضروریات کو پورا کرے اور ملک کی ترقی میں مدد دے۔رپورٹ میں طلبہ کے لئے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں میرٹ پر پروگرامز، بیرونِ ملک تعلیمی مواقع اور نمایاں طلبہ کے لئے سہولیات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ایچ ایس ایس سی) کی عالمی سطح پر پہچان بہتر بنانے کے لئے بھی کام کیا گیا۔ادارے کے اندر بھی اہم فیصلے کئے گئے جیسے گریڈنگ نظام میں بہتری، امتحانات کے شیڈول، ایکویویلنس پالیسیز اور ریسرچ ونگ کا قیام۔ یہ اقدامات آئی بی سی سی کے کردار کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔یہ رپورٹ ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی امتحانی نظام کی جھلک پیش کرتی ہے جو شفاف، مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق ہے۔









