لاہور۔9فروری (اے پی پی):بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی)، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان کھلے، تعمیری اور دوستانہ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں۔ آئی سی سی ترجمان کے مطابق اس دوران کئی امور زیر غور آئے، جن میں آئی سی سی مردانہ ٹی20ورلڈ کپ 2026اور جنوبی ایشیا میں کرکٹ کے مجموعی فروغ کے امور شامل تھے۔مذاکرات میں بنگلہ …
آئی سی سی،پی سی بی اور بی سی بی کے درمیان کھلے، تعمیری و دوستانہ مذاکرات مکمل ، آئی سی سی نے بی سی بی کے کردار کو ایک معتبر مکمل رکن کے طور پر تسلیم کرلیا

مزید خبریں
لاہور۔9فروری (اے پی پی):بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی)، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان کھلے، تعمیری اور دوستانہ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں۔ آئی سی سی ترجمان کے مطابق اس دوران کئی امور زیر غور آئے، جن میں آئی سی سی مردانہ ٹی20ورلڈ کپ 2026اور جنوبی ایشیا میں کرکٹ کے مجموعی فروغ کے امور شامل تھے۔مذاکرات میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی مردانہ ٹی20ورلڈ کپ میں غیر موجودگی پر غور کیا گیا۔
آئی سی سی نے بی سی بی کے کردار کو ایک معتبر مکمل رکن کے طور پر تسلیم کیا اور کہا کہ اس کا تاریخی کرکٹ ورثہ اور عالمی کرکٹ کی ترقی میں اہم کردار برقرار ہے۔ آئی سی سی نے مزید کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں کرکٹ کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا تاکہ قومی ٹیم کی غیر موجودگی کے طویل مدتی اثرات نہ ہوں۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بی سی بی پر کسی مالی، کھیل یا انتظامی پابندی یا سزا عائد نہیں کی جائے گی۔ بی سی بی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو موجودہ معاملات میں تنازعہ حل کمیٹی (DRC) سے رجوع کر سکے۔
آئی سی سی نے کہا کہ اس کا طریقہ کار غیر جانبدار اور منصفانہ ہے اور مقصد تعاون اور سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ سزا دینا۔اس معاہدے کے تحت یہ بھی طے پایا کہ بی سی بی 2031سے قبل کسی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرے گا، جس کے لیے آئی سی سی کے معمول کے میزبان عمل، وقت اور آپریشنل تقاضے لاگو ہوں گے۔ یہ اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ بی سی بی ایونٹ کی میزبانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور آئی سی سی کی جانب سے اس کے ممبران کو مواقع فراہم کرنے کی وابستگی برقرار ہے۔
آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو سنجوگ گپتا نے کہا: "بنگلہ دیش کی ٹی20 ورلڈ کپ میں غیر موجودگی قابل افسوس ہے، لیکن یہ آئی سی سی کی بنگلہ دیش کو اہم کرکٹ ملک کے طور پر تسلیم کرنے کی وابستگی کو بدلتا نہیں۔ ہمارا فوکس اس بات پر ہے کہ بی سی بی سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کھیل کے پائیدار فروغ کو یقینی بنایا جائے اور کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے مستقبل کے مواقع مضبوط ہوں۔ بنگلہ دیش ایک ترجیحی کرکٹ ماحول ہے جس میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے اور اس کی ترقی اور عالمی سطح پر شمولیت کو مختصر مدتی رکاوٹیں محدود نہیں کرتیں۔








