ڈیووس۔22جنوری (اے پی پی):جمہوریہ آذربائیجان کی سٹیٹ آئل کمپنی سوکارنے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ بزنس راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ تک پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں اپنی سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے دے گی۔یہ اعلان سوکار کے صدرروشن نجف نے وفاقی …
آذربائیجان کمپنی سوکار کا پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروری میں حتمی شکل دینے کا اعلان

مزید خبریں
ڈیووس۔22جنوری (اے پی پی):جمہوریہ آذربائیجان کی سٹیٹ آئل کمپنی سوکارنے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ بزنس راؤنڈ ٹیبل میں شرکت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ تک پاکستان کے تیل و گیس شعبے میں اپنی سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے دے گی۔یہ اعلان سوکار کے صدرروشن نجف نے وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوکار پاکستان کو ایک قدرتی اور طویل مدتی توانائی شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور شعبے میں جاری اصلاحات سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سوکار کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان تیل و گیس اور معدنیات کے شعبوں میں سٹریٹجک سرمایہ کاری کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے کیونکہ یہ شعبے توانائی کے تحفظ، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لئے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی اصلاحات پر کام کر رہی ہے جن سے تجارتی شفافیت، معاہدوں میں وضاحت اور سرمایہ کاروں کے لئے بہتر ماحول یقینی بنایا جا سکے۔روشن نجف نے بتایا کہ سوکار پہلے ہی سوکار ٹریڈنگ کے ذریعے پاکستان میں موجود ہے جو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے ساتھ جی ٹو جی ایل این جی فریم ورک کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بغیر کسی ٹیک اور پے شرط کے ماہانہ ایک ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی سہولت ہے جس سے قیمت اور طلب کے حوالے سے لچک ملتی ہے۔ یہ ایل این جی فریم ورک 2025 تک توسیع پا چکا ہے۔
انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر جاری روابط کا بھی ذکر کیا اور تیل و گیس کے پورے ویلیو چین میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر عملدرآمد کر رہا ہے۔روشن نجف نے سوکار کے عالمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک بڑی سرکاری توانائی کمپنی ہے جو 20 سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے، جس کے 66 ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں جبکہ 2024 میں اس کی آمدن تقریباً 50.6 ارب امریکی ڈالر رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی قومی توانائی کمپنی ہونے کے ناطے سوکار پاکستان کے لئے ایک قابلِ اعتماد اور طویل مدتی شراکت دار بن سکتی ہے۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سکار کی سرمایہ کاری کو حتمی شکل دینے کے لئے آئندہ ہفتوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا جو پاکستان کی معاشی اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔








