اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا جس کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی آئندہ تین سال کے لئے دوبارہ تقرری کر سکیں گے۔ جمعہ کو قومی اسبملی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020ءپیش کیا۔ پیش کردہ بل کے تحت آرمی ایکٹ …
آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا جس کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی آئندہ تین سال کے لئے دوبارہ تقرری کر سکیں گے۔ جمعہ کو قومی اسبملی میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل 2020ءپیش کیا۔ پیش کردہ بل کے تحت آرمی ایکٹ 1952ءکی شق 176اے میں ترمیم پیش کی گئی ہے۔ آرمی ایکٹ کی سیکشن 8 اے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سال کے لئے جنرل رینک کے آفیسر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تقرری کر سکیں گے۔ بل کے مطابق شق 8 بی کے تحت تعینات آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لئے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر صدر مملکت مزید تین سالوں کے لئے چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر یا ان کے عہدے کی معیاد میں توسیع کر سکیں گے۔ بل کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ بل کی شق 8 سی کے مطابق آرمی چیف کے عہدے کی ریٹائرمنٹ اور ملازمت کی حدود کا تعین کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر اور کسی جنرل کی ملازمت کی مدت کی شرائط اور محدودات کا تعین چیف آف آرمی سٹاف یا آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کے ضمن میں نہیں ہوگا بشرطیکہ اس کی عمر 64 سال سے زیادہ نہ ہو۔ ترمیمی بل کی شق 8 بی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں ‘ پاکستان نیوی کے ایڈمرلز یا پاکستان ایئرفورس کے ایئر چیف مارشل میں سے کسی ایک کا تین سال کی مدت کے لئے تقرر کر سکیں گے۔








