آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا غیر ملکی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو

مظفرآباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ 26 فروری کو بھارتی دراندازی اور پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اب بھی باقی ہے جو کسی بھی وقت سنگین صورتحال اختیار کرکے جنگ کا سبب بن سکتی ہے، بھارت ہر روز نہتے اور بیگناہ شہریوں کو جب لائن آف …

مظفرآباد ۔ 20 مئی (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ 26 فروری کو بھارتی دراندازی اور پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اب بھی باقی ہے جو کسی بھی وقت سنگین صورتحال اختیار کرکے جنگ کا سبب بن سکتی ہے، بھارت ہر روز نہتے اور بیگناہ شہریوں کو جب لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف قتل کرتا ہے اُس کا درد آزاد کشمیر میں بھی اُسی شدت سے محسوس کیا جاتا ہے جس شدت سے مقبوضہ علاقہ میں محسوس ہوتا ہے، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر ایک ہی ریاست کے دو حصے ہیں اور دونوں خطوں کے عوام آزادی، حق خود ارادیت اور اپنے مستقبل کے بارے میں ایک ہی طرح کے احساسات اور جذبات رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایوان صدر مظفرآباد میں ایک غیر ملکی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ جب تک تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی اُمنگوں کے مطابق حل نہیںکر لیا جاتا، جنوبی ایشیاء میں ایک ہولناک جنگ کے سائے منڈلاتے رہیں گے اور بھارت اور پاکستان نہ صرف اپنی سلامتی کے بارے میںغیر یقینی سے دوچار رہیں گے بلکہ اقتصادی اور معاشی ترقی میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔ پلوامہ واقعہ میں پاکستان کی ایک کالعدم تنظیم جیش محمد کے ملوث ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر سردا ر مسعود خان نے کہا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ اس واقعہ میں کون ملوث تھا اور کون نہیں تھا کیونکہ اس کیلئے ضروری ہے اس واقعہ کی مکمل چھان بین ہو لیکن بھارت نے ایسی تحقیق اور تفتیش کے بغیر ہی پاکستان پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، پاکستان اور کشمیر کے عوام اب بھی یہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ دنیا کو بھارت کی دورغ گوئی اور جھوٹ کا پتہ چل سکے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا حالیہ پاک۔بھارت کشیدگی کا تعلق بھارت میں ہونے والے انتخابات سے جوڑا جا سکتا ہے تو صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس کشیدگی کا بڑی حد تک تعلق بھارت کے انتخابات سے ہے کیونکہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم، پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے کارڈ کو ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں اور اب کی بار تو پاکستان پر حملہ کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی جو ایک نہایت غیرذمہ دارانہ اور بچکانہ طرز عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ 71 سال حل طلب کشمیر کا تنازعہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میں اس کے مظالم، لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال اور بلاجواز بھارتی فائرنگ جیسے واقعات دونوں ملکوں کو کسی بھی وقت جوہری جنگ کی طرف لے جا سکتے ہیں جس کو ٹالنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلہ میں معمولی سی کوتاہی بھی خطہ اور عالمی امن کو دائو پر لگانے کے مترادف ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے کسی قابل عمل اور قابل قبول فارمولے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں جو فارمولہ اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوںمیں طے کیا ہے وہ قابل عمل اور قابل قبول فارمولہ ہے لیکن بھارت اگر کسی اور طریقے سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے اور کشمیر کو متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہوئے اسے سفارتی طریقے سے حل کرنے کی طرف پیشرفت کرے۔

مزید خبریں

Leave a Reply