آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری فرحت علی میرکی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری و آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ میں کی جانے والی تیرھویں آئینی ترامیم پر حکومت کی جانب سے نامزد فوکل پرسن فرحت علی میر نے کہا ہے کہ تیرھویں ترمیم کے بعد آزاد حکومت کو با اختیار بنا دیا گیا، آزاد جموں و کشمیر کونسل کے تمام مالیاتی اور انتظامی اختیارات آزاد حکومت کو منتقل کر …

اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) آزاد کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری و آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ میں کی جانے والی تیرھویں آئینی ترامیم پر حکومت کی جانب سے نامزد فوکل پرسن فرحت علی میر نے کہا ہے کہ تیرھویں ترمیم کے بعد آزاد حکومت کو با اختیار بنا دیا گیا، آزاد جموں و کشمیر کونسل کے تمام مالیاتی اور انتظامی اختیارات آزاد حکومت کو منتقل کر دیے گئے ہیں، ہر طرح کے ٹیکس آزاد حکومت وصول کریگی،سیاحت اور ہائیڈل سمیت تمام اختیارات آزاد حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔جمعرات کو کشمیر ہاﺅس اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باغ اور مظفرآباد میں لگائے گئے میونسپل ٹیکس پچھلے دور حکومت میں لگے جن کے بارے ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ 2008 سے آزاد کشمیر کے ایکٹ 74 میں ترامیم کے لئے کوششیں جاری تھی۔آزاد کشمیر کے ایکٹ کے تحت تین سیکشنز 31، 33 اور 56 پر ترامیم کے لئے حکومت پاکستان سے پیشگی اجازت لازمی تھی۔ 31 مئی 2018 کو حکومت پاکستان سے منظوری ملی جسکے بعد مشترکہ اجلاس میں منظوری ہوئی۔فرحت میر نے کہا کہا کہ ترمیم کے تحت اب ہمارا ایکٹ آزاد جموں کشمیر آئین میں تبدیل ہو گیا ہے۔ پاکستان کے آئین کے اندر بھی ایک چیپٹر شامل کیا گیا جس میں رہنما اصول درج ہیں وہ پورا اٹھا کر ہم نے اپنے آئین میں شامل کیا گیا ہے۔ بنیادی حقوق میں بھی 6 نئے حقوق شامل کیے گئے ہیںجو پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ آئندہ اسمبلی کے مدت میںکابینہ کے حجم کا اطلاق ہوگا۔ جس کے مطابق کل اسمبلی کی 30 فیصد کابینہ ہو گی۔

مزید خبریں