آسٹریلیا نے نفرت پھیلانے کے الزامات پر اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ویزا منسوخ کر دیا

کینبرا ۔27جنوری (اے پی پی):آسٹریلیا نے نفرت پھیلانے کے الزامات پر اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ویزا منسوخ کر دیا۔الجزیرہ کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر سیمی یہود کا ویزا منسوخ کر دیا ہے، جس پر اسلام کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کے الزامات ہیں۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے افراد کو آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو نفرت اور …

کینبرا ۔27جنوری (اے پی پی):آسٹریلیا نے نفرت پھیلانے کے الزامات پر اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ویزا منسوخ کر دیا۔الجزیرہ کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسر سیمی یہود کا ویزا منسوخ کر دیا ہے، جس پر اسلام کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے کے الزامات ہیں۔ آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے افراد کو آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو نفرت اور تقسیم کو فروغ دیں۔

آسٹریلوی وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے اپنے بیان میں کہا کہ نفرت پھیلانا آسٹریلیا آنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سیمی یہود نے خود اعلان کیا کہ ان کی پرواز روانہ ہونے سے محض تین گھنٹے قبل ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ جو افراد آسٹریلیا کا سفر کرنا چاہتے ہیں، انہیں درست ویزا کے لیے درخواست دینا چاہیے اور درست مقاصد کے تحت ملک میں آنا چاہیے۔سیمی یہود نے ویزا منسوخی سے چند گھنٹے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسلام کے خلاف متنازع اور توہین آمیز بیانات دیے تھے، جن میں انہوں نے اسلام کو ’’نفرت انگیز نظریہ‘‘ اور ’’جارح‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے ماضی میں امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر کی ملک بدری کی بھی حمایت کی تھی اور فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یواین آر ڈبلیو اےکا تمسخر اڑایا تھا۔رپورٹس کے مطابق سیمی یہود، جو برطانیہ کے نژاد اور حال ہی میں اسرائیلی شہری بنے ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ ویزا منسوخی کے باوجود وہ اسرائیل سے ابوظہبی پہنچے، تاہم وہاں سے میلبورن کے لیے کنیکٹنگ پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔سیمی یہود نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں غیرقانونی طور پر آسٹریلیا میں داخلے سے روکا گیااور وہ اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔