آغا خان یونیورسٹی کے سابق طالب علم ڈاکٹر رسل سیٹھ مارٹنز نے کینسر ریسرچ، تھوراسک سرجری اور جدید جراحی تحقیق میں نمایاں مقام حاصل کر لیا

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):آغا خان یونیورسٹی کے سابق طالب علم ڈاکٹر رسل سیٹھ مارٹنز نے کینسر ریسرچ، تھوراسک سرجری اور جدید جراحی تحقیق میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ڈاکٹر مارٹنز کو ایلسیویئر اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی کے مطابق دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سب سے زیادہ حوالہ دئیے جانے والے محققین میں شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رسل مارٹنز کے نام پر اب تک 130 …

اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):آغا خان یونیورسٹی کے سابق طالب علم ڈاکٹر رسل سیٹھ مارٹنز نے کینسر ریسرچ، تھوراسک سرجری اور جدید جراحی تحقیق میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ڈاکٹر مارٹنز کو ایلسیویئر اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی کے مطابق دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سب سے زیادہ حوالہ دئیے جانے والے محققین میں شامل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رسل مارٹنز کے نام پر اب تک 130 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کے تحقیقی کام کو 3,000 سے زائد مرتبہ حوالے دیا جا چکا ہے۔

ان کی تحقیق نہ صرف سائنسی اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ اس کے نتائج مریضوں کی عملی زندگی میں بھی نمایاں بہتری لا رہے ہیں جس پر انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر رسل مارٹنز نے اپنے ابتدائی کیریئر میں یہ مشاہدہ کیا کہ کینسر کے علاج میں معمولی تبدیلیاں بھی مریضوں کی زندگیوں میں غیر معمولی فرق ڈال سکتی ہیں۔ یہی مشاہدہ ان کی تحقیق کا بنیادی محرک بن گیا۔ ان کی ایک معروف تحقیق میں لنگ کینسر کے مریضوں کو سرجری سے پہلے یا بعد میں ادویات دینے کے اثرات کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔

اس تحقیق سے یہ اہم نتیجہ سامنے آیا کہ سرجری سے قبل دوا دینا مریضوں کی بقا ءکے امکانات نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے جس نے دنیا بھر میں علاج کے طریقہ کار پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ ہریز سَرطانی (بریسٹ کینسر) کے شعبے میں بھی ڈاکٹر رسل مارٹنز نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ماسٹیکٹومی کے دوران انفیکشن سے بچاؤ کے لئے اینٹی بائیوٹکس کے استعمال پر ان کی تحقیق نے مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور کئی ممالک میں طبی رہنما اصولوں کا حصہ بنی۔ ڈاکٹر رسل مارٹنز کی تحقیق صرف کینسر تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے سانس کی نالی کی بیماریوں جیسے ٹریکیا کی تنگی کے علاج پر بھی اہم کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ماحول دوست جراحی طریقوں کی ترقی کے لئے بھی سرگرم ہیں تاکہ صحت کے شعبے میں فضلے میں کمی اور وسائل کے بہتر استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کی عالمی سطح پر سائنسی شراکت داری بھی قابلِ ذکر ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر پر ایوارڈ یافتہ تحقیق سے لے کر امریکہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے پھیپھڑوں کی سرجری پر جدید منصوبوں تک ڈاکٹر رسل مارٹنز نے بین الاقوامی اشتراک کی شاندار مثال قائم کی ہے۔ تحقیق کے ساتھ طلبہ کی رہنمائی اور تربیت بھی ان کے کیریئر کا اہم حصہ ہے۔

آغا خان یونیورسٹی اور ہیكنسیک میریڈیئن سکول آف میڈیسن میں وہ اب تک 100 سے زائد طلبہ اور ٹرینی ڈاکٹرز کی رہنمائی کر چکے ہیں جن میں سے کئی طلبہ قومی سطح کے تحقیقی ایوارڈز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر رسل مارٹنز کے نزدیک ان کے شاگردوں کی کامیابیاں ان کی ذاتی کامیابیوں سے کم نہیں بلکہ علم کی منتقلی کا سب سے حسین ثبوت ہیں۔ڈاکٹر رسل سیٹھ مارٹنز آج عالمی سطح پر پاکستانی اور آغا خان یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کا روشن چہرہ بن چکے ہیں، جو نوجوان محققین کے لئے ایک متاثر کن مثال ہیں۔