6 ستمبر 1965ء کی شام پاکستان ایئر فورس کے 19 سکواڈرن کے آٹھ ایف۔86 سیبرز کی بھارتی فضائی اڈے پٹھان کوٹ کی جانب جرات مندانہ مشن پر پرواز

6 ستمبر 1965ء کی شام پاک فضائیہ کے 19 سکواڈرن کے آٹھ ایف۔86 سیبرز نے بھارتی فضائی اڈے پٹھان کوٹ کی جانب ایک جرات مندانہ مشن پر پرواز کی۔

اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):6 ستمبر 1965ء کی شام پاکستان ایئر فورس کے نمبر 19 سکواڈرن کے آٹھ ایف۔86 سیبرز نے محدود ایندھن کے باوجود بھارتی فضائی اڈے پٹھان کوٹ کی جانب ایک جرات مندانہ مشن پر پرواز کی جو 1965ء کی جنگ کی یادگار فضائی کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس مشن کی قیادت اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کر رہے تھے۔ نمبر 19 اسکواڈرن کو ’’شیر دل‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ فارمیشن میں شامل دیگر پائلٹس میں محمد اکبر، مظہر عباس، دلاور حسین، غنی اکبر، ارشد چوہدری، خالد لطیف اور عباس خٹک شامل تھے۔پائلٹس کا مشن انتہائی مشکل تھا۔ انہیں دشمن کو فوری ردعمل کا موقع دیئے بغیر پٹھان کوٹ پہنچنا، زمین پر موجود بھارتی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانا، طیارہ شکن فائر کا سامنا کرنا اور واپسی کے لیے ضروری ایندھن بھی بچانا تھا۔6 ستمبر کو نمبر 19 اسکواڈرن پہلے ہی ایک طویل دن گزار چکا تھا۔ لاہور کے قریب لڑائی پھیلنے کے دوران اس کے سیبرز پاکستانی زمینی افواج کی معاونت کے لیے پروازیں کر چکے تھے تاہم دوپہر کے بعد ایک اور اہم مشن ان کا منتظر تھا اور اس بار ہدف پٹھان کوٹ ایئربیس تھا۔جنگ سے قبل نمبر 19 اسکواڈرن کے پائلٹس نے کم بلندی پر پرواز اور زمینی اہداف پر حملوں کی بھرپور تربیت حاصل کی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ حقیقی جنگی کارروائی کے دوران ہدف دیکھنے، فائر کرنے اور وہاں سے نکلنے کے لیے محض چند سیکنڈز میسر ہوں گے۔6 ستمبر کو یہی تربیت عملی امتحان میں تبدیل ہوگئی۔ گراؤنڈ عملے نےسیبرز کی تکنیکی جانچ مکمل کی، ہتھیار تیار کیے، طیاروں میں ایندھن بھرا اور پائلٹس نے مشن اور راستے کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد آٹھ سیبرز نے اڑان بھری۔پٹھان کوٹ کے آسمان پر شیر دل حملے کی کامیابی میں اچانک کارروائی بنیادی عنصر تھی۔ پاکستان ایئر فورس میوزیم کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق پٹھان کوٹ پر حملہ 6 ستمبر 1965ء کو 5 بج کر 5 منٹ پر کیا گیا۔جب پاکستانی فارمیشن پٹھان کوٹ پہنچی تو بھارتی لڑاکا طیارے زمین پر موجود تھے۔ سیبرز نے ایئرفیلڈ کی جانب غوطہ لگایا اور فائر کھول دیا۔ بھارتی طیارہ شکن توپوں نے بھی جواب دیاتاہم ’’شیر دل‘‘ اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ہرپائلٹ کو بیک وقت ہدف، دشمن کی فائرنگ، فارمیشن میں شامل دیگر طیاروں اور ایندھن کی مقدار پر نظر رکھنا تھی۔ چند سیکنڈز کی معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی تھی، مگر فارمیشن متحد رہی اور مشن جاری رکھا۔پاکستان ایئر فورس میوزیم کی سرکاری تاریخ کے مطابق سجاد حیدر اور ان کے ساتھیوں نے پٹھان کوٹ میں 14 بھارتی طیارے تباہ کیے جن میں مگ۔ 21، مسٹیئر اور دیگر لڑاکا طیارے شامل تھے۔تاہم ایک پاکستانی عسکری مطالعاتی رپورٹ میں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے الگ الگ ریکارڈ کے تحت پٹھان کوٹ میں زمین پر دو مگ۔21 اور آٹھ مسٹیئر طیاروں کی تباہی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یوں مختلف تاریخی ذرائع میں تباہ ہونے والے بھارتی طیاروں کی تعداد کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔پاکستان کے لیے یہ کارروائی جنگ کے دوران پاک فضائیہ کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوئی۔بھارتی افسر کی نظر سے حملے کی تصویرپٹھان کوٹ حملے کی ایک اہم تصویر ایک بھارتی افسر ایس راگھویندرن کی یادداشتوں سے سامنے آتی ہے، جو بعد میں بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل بنے۔انہوں نے یاد کیا کہ پاک فضائیہ کے سیبرز اچانک ایئربیس پر نمودار ہوئے جس سے وہاں افراتفری پھیل گئی۔ گولیاں چل رہی تھیں اور اہلکار پناہ لینے کے لیے خندقوں کی طرف دوڑ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیبرز بار بار ایئرفیلڈ کے اوپر آئے اور طیاروں کو نشانہ بنایا جبکہ بھارتی طیارہ شکن توپیں ان پر فائر کرتی رہیں۔یہ بیان زمین پر موجود ایک بھارتی افسر کی نظر سے اس کارروائی کی نایاب تصویر پیش کرتا ہے اور اس اچانک حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو واضح کرتا ہے۔ہدف نشانہ بننے کے بعد بھی خطرہ ختم نہیں ہوا۔پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد پائلٹس کے لیے سب سے بڑا چیلنج بحفاظت وطن واپس پہنچنا تھا۔دشمن کے علاقے میں داخل ہو کر حملے کے دوران سیبرز کا قیمتی ایندھن خرچ ہوچکا تھا اور اب واپسی کے دوران ہر لمحہ اہم تھا۔فارمیشن نے پاکستان کی جانب رخ کیا۔ پیچھے پٹھان کوٹ تھا اور سامنے وطن۔سجاد حیدر نے بعد میں یاد کیا کہ واپسی کے دوران بعض طیاروں میں ایندھن انتہائی کم رہ گیا تھا۔ عباس خٹک اور غنی اکبر کو خاص طور پر ایندھن کی شدید کمی کا سامنا تھا۔کچھ دیر پہلے یہی پائلٹس دشمن کی طیارہ شکن توپوں سے بچتے ہوئے حملہ کر رہے تھے جبکہ اب ان کی نظریں ایندھن کے گیجز پر بھی تھیں۔سیبرز مسلسل پاکستان کی جانب بڑھتے رہے اور بالآخر بحفاظت واپس پہنچ گئے۔ایئربیس پر موجود گراؤنڈ عملے کے لیے واپس آنے والے طیاروں کا منظر صرف ایک جنگی مشن کے اختتام کی علامت نہیں تھا بلکہ ان پائلٹس کی واپسی کی خوشخبری بھی تھا۔کامیابی کے پیچھے ٹیم ورک پٹھان کوٹ مشن صرف آٹھ پائلٹس کی داستان نہیں بلکہ پورے نمبر 19 اسکواڈرن کی اجتماعی کاوش کا نتیجہ تھا۔ہر سیبر کے پیچھے تکنیکی ماہرین اور گراؤنڈ عملے کی ایک ٹیم موجود تھی جس نے انجنوں کی جانچ، ہتھیاروں کی تیاری، ایندھن کی فراہمی اور طیاروں کو جنگی مشن کے لیے تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ایئر ڈیفنس کنٹرولرز، انجینئرز، منصوبہ سازوں اور دیگر معاون عملے نے بھی مشن کی کامیابی میں حصہ ڈالا۔پائلٹس نے دشمن کی فضائوں میں پرواز کی، لیکن انہیں وہاں بھیجنے اور بحفاظت واپس لانے کے پیچھے پورا اسکواڈرن موجود تھا۔جنگ کے دوران جرات اور قیادت پراسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کو بعد ازاں ستارۂ جرات سے بھی نوازا گیا۔بلیک اینڈ وائٹ تصاویر میں محفوظ ایک داستان چھ دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نمبر 19 اسکواڈرن کی پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر آج بھی اس تاریخی مشن کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ایک تصویر میں نوجوان پائلٹس نقشے کے گرد بیٹھے دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری میں وہ ایف۔86 سیبر کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر کسی نمائش کے بجائے توجہ، تیاری اور ذمہ داری کا احساس نمایاں ہے۔شاید یہی ان تصاویر کا سب سے مضبوط پیغام ہے کہ بہادری ہمیشہ بلند آواز نہیں ہوتی۔ بعض اوقات بہادری ایک نوجوان پائلٹ کا نقشے کا مطالعہ کرنا، ہیلمٹ پہننا اور جنگی طیارے میں بیٹھ کر دشمن کی جانب پرواز کرنا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ آگے دشمن کی توپیں منتظر ہوسکتی ہیں۔یومِ دفاع کے موقع پر پٹھان کوٹ مشن کو صرف 14 بھارتی طیارے تباہ کرنے کے پاکستانی دعوے کے حوالے سے نہیں بلکہ ان پائلٹس کی جرات، ان کی تربیت اور ٹیم ورک کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس شام آٹھ سیبرز پٹھان کوٹ کی جانب روانہ ہوئے تھےمگر ان کے پیچھے پورا نمبر 19 اسکواڈرن کھڑا تھا۔ ان کے طیارے اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، تاہم ’’شیر دلوں‘‘ کا سبق آج بھی زندہ ہے کہ تربیت مہارت پیدا کرتی ہے، ٹیم ورک قوت کو جنم دیتا ہے اور وطن کے دفاع میں دکھائی جانے والی جرات تاریخ رقم کرسکتی ہے۔تاریخی اختلافات کو نمایاں کریں۔

مزید خبریں