اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے کہا ہے کہ مختلف سپریم آڈٹ انسٹی ٹیوشنز کے ساتھ تعاون اور تبادلہ خیال کا مقصد ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ بات انہوں نے آڈٹ ہاﺅس اسلام آباد میں پاک انڈونیشیا پبلک آڈیٹنگ سیمینار 2019ءکے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کے انعقاد سے اےک دوسرے …
آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر کا پاک انڈونیشیا پبلک آڈیٹنگ سیمینار 2019ءکے شرکا سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے کہا ہے کہ مختلف سپریم آڈٹ انسٹی ٹیوشنز کے ساتھ تعاون اور تبادلہ خیال کا مقصد ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ بات انہوں نے آڈٹ ہاﺅس اسلام آباد میں پاک انڈونیشیا پبلک آڈیٹنگ سیمینار 2019ءکے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کے انعقاد سے اےک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملتی ہے، اس کے لئے گزشتہ دو تین سالوں میں پاکستان کے ایس اے آئی نے متحدہ ممالک کے ایس اے آئیز سے باہمی تعاون کی یادداشتوں پر دستخط بھی کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ اس سیمینار سے دونوں ممالک کے ایس اے آئی کو ایک دوسرے سے باہمی تبادلہ خیال اور تعاون کی یادداشت پر دستخط اور تجربات سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملی جس میں آئندہ آنے والی قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور اس کے لئے کیا طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ زیادہ نقصانات سے بچا جا سکے اور ایسی قدرتی آفات و حادثات کے بعد بحالی کے لئے کیا اقدامات کئے جا سکیں تاکہ قومی مسائل کے اچھے اور شفاف طریقے سے استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے اس موقع پر کہا کہ ایس اے آئی انڈونیشیا کے چیئرمین کا وفد بھےجنے کے لئے مشکور ہیں اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں وہ ضرور پاکستان آئیں گے اور اپنے تجربات سے ہمیں مستفید فرمائیں گے۔ جمہوریہ انڈونیشیا کے آڈٹ بورڈ (بی پی کے) کے وفد کے رکن ڈائریکٹر آف آڈٹ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ سلامت ریادی نے اس بارے میں تفصیلی پیپر پڑھا اور بتایا کہ ان کے ملک میں ایسے حالات میں جو مالی اور جانی نقصانات ہوتے ہیں، ان کی بحالی کے لئے قومی وسائل کے شفاف استعمال کو کیسے یقینی بنایا جاتا ہے اور اس میں ان کے آڈٹ کے شعبے کا کیا کردار ہے۔ سلامت ریادی نے بہترین مہمان نوازی پر آڈیٹر جنرل کا شکریہ ادا کےا اور کہا کہ ایس اے آئی آڈٹ بورڈ (بی پی کے) جمہوریہ انڈونیشیا کے چیئرمین سیمنار میں شرکت کے لئے آنا چاہتے تھے مگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر نہیں آ سکے۔ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل ماحولییاتی آڈٹ عدنان رفیق نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ پچھلی تین دہائیوں میں دنیےا بھر مےں قدرتی سانحات بڑھے ہیں جس سے متاثرہ ملکوں کی معےشت، انسانی زندگےوں و تعمیرات پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بین الااقوامی برادری اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ایسے حادثات سے قبل از وقت بچاﺅ کی پالیسی بنا کر مالی نقصان، معاشی مسائل اور انسانی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ایسے حالات میں مجموعی طور پر بدعنوانی، فراڈ میں اضافہ کا اندےشہ ہوتا ہے جس کی روک تھام کے لئے آڈٹ اہم کردار کرتا ہے۔ عدنان رفیق نے کہا کہ ایس اے آئی پاکستان اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور گورنمنٹ کے اداروں میں ایسے حالات میں شفافیت اور احتسابی عمل کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے جس میں کافی حد تک کامےابی حاصل ہوئی ہے۔








