اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) احساس پروگرام نے 15 ماہ پر مشتمل جدوجہد کے سفر کی تکمیل پر اپنا نیوز لیٹر جاری کر دیا ہے جس میں متعدد اقدامات کا آغاز، ادارہ جاتی اصلاحات اور سٹرٹیجک شراکت داریاں شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ 2019ء کو احساس پروگرام کا افتتاح کیا جو پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا تخفیف غربت کا اقدام ہے۔ …
احساس پروگرام نے 15 ماہ پر مشتمل جدوجہد کے سفر کی تکمیل پر اپنا نیوز لیٹر جاری کر دیا احساس نیوز لیٹر منفرد اہمیت کا حامل ہے اس میں احساس کے تعلقات اور شراکت داریوں کا سفر شامل ہے جس میں پاکستان میں کثیر الجہتی غربت سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، معاون خصوصی ڈاکٹرثانیہ نشتر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی) احساس پروگرام نے 15 ماہ پر مشتمل جدوجہد کے سفر کی تکمیل پر اپنا نیوز لیٹر جاری کر دیا ہے جس میں متعدد اقدامات کا آغاز، ادارہ جاتی اصلاحات اور سٹرٹیجک شراکت داریاں شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ 2019ء کو احساس پروگرام کا افتتاح کیا جو پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا تخفیف غربت کا اقدام ہے۔ اس پروگرام کے باضابطہ آغاز کے بعد ملک بھر میں متعدد اہم اقدامات شروع کئے جا چکے ہیں۔ احساس نیوز لیٹر کے ڈیجیٹل شمارے کو اس لنک https;584747;mailchi;46;mp;47;0fe13d3d2af0;47;ehsaasprogress;58; پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ نیوز لیٹر کے اجراء پر تبصرہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا یہ نیوز لیٹر منفرد ہے کیوں اس میں احساس کے تعلقات اور شراکت داریوں کا سفر شامل ہے جس میں پاکستان میں کثیر الجہتی غربت سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ شمارہ اس پروگرام کو حاصل ہونے والی بین الاقوامی شہرت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احساس کو گزشتہ 15ماہ کے دوران بین الاقوامی پروگراموں میں نمایاں طورپر پیش کیا گیا ہے، ان پروگراموں میں اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، یو این ڈی پی، یو این ویمن، آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ،ہاروڈ پاکستان فورم اور ایس یو این موومنٹ کی جانب سے میزبانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈ اکنامک فورم، ٹیلی گراف، عالمی بینک، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یو این ایس جی ایس اے نے بھی احساس کو سراہا ہے۔ نیوز لیٹر میں احساس کے مختلف اہم کار ناموں اورمنصوبوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کووڈ19سے نمٹنے کیلئے حکومت نے لاک ڈائون کے دس روز کے اندر انتہائی غریب 16.9 ملین خاندانوں کی مالی معاونت کیلئے 203 ارب روپے مختص کئے۔ کفالت ایک غیر مشروط مالی معاونت کا پروگرام ہے جو 7 ملین پسماندہ گھرانوں (100 فیصد خواتین) کیلئے 2 ہزار ماہانہ اور بینک اکائونٹس فراہم کرتا ہے۔ 42.65 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کے پروگرام کے تحت 100اضلاع میں ہر ماہ 80,000 قرضے دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان کے 23 اضلاع میں شروع کئے گئے آمدن پروگرام کے تحت مستحق گھرانوں (60 فیصد خواتین) میں 200,000 پیداواری اثاثہ جات منتقل کئے گئے۔ احساس انڈر گریجویٹ اسکالرشپس کم آمدن گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی امداد کرتی ہے۔ چار سالوں کے دوران 200,000 سکالرشپس کیلئے 20 ارب روپے مختص کئے گئے۔ مزدورں کے احساس کیلئے احساس لنگر اسکیم کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت متعارف کرایا گیا جس میں روزانہ 600سے زائد مزدورں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ حال ہی میں احساس نشوونما کا آغاز کیا گیا، یہ مائوں اور بچوں کیلئے غذائیت سے متعلق مشروط مالی معاونت کا پروگرام ہے جس کا مقصد پروگرام کے پہلے مرحلے میں 9اضلاع میں 2سال سے کم عمر کے بچوں میں اسٹنٹنگ سے نمٹنا ہے۔ آئندہ شروع کئے جانے والے پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے نیو ز لیٹر پاکستان کے پہلے سیفٹی نیٹ تحفظ کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس میں مستحق افراد کیلئے بھاری طبی اخراجات شامل ہیں اورتعلیمی وظائف مشروط مالی معاونت کے ذریعے 148اضلاع میں 5ملین پرائمری سکول جانے والے بچوں کو مستفید کرے گا۔ یہ دونوں پروگرام آئندہ چند ماہ میں شروع کئے جائیں گے۔ بہتر اہداف اور پروگرامنگ کیلئے غربت کے صحیح اعدادوشمار حاصل کرنے کیلئے رواں سال کے آخر تک قومی سماجی ومعاشی رجسٹری کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے کمپیوٹرائزڈ سروے کا کام ملک بھر میں جاری ہے۔








