اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پی آئی سی اے ایس) میں سینٹر فار میتھمیٹیکل سائنسز (سی ایم ایس) اور جدید ترین ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) مشین کا افتتاح کیا جو اس وقت پاکستان کی سب سے طاقتور سی پی یو بنیاد پر مبنی کمپیوٹنگ مشین ہے۔چیئرمین پاکستان ایٹمی …
احسن اقبال کا پی آئی سی اے ایس میں جدید ترین ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ مشین کا افتتاح

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پی آئی سی اے ایس) میں سینٹر فار میتھمیٹیکل سائنسز (سی ایم ایس) اور جدید ترین ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) مشین کا افتتاح کیا جو اس وقت پاکستان کی سب سے طاقتور سی پی یو بنیاد پر مبنی کمپیوٹنگ مشین ہے۔چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (پی اے ای سی) ڈاکٹر راجہ علی رضا انور بھی اس موقع پر موجود تھے جنہوں نے وفاقی وزیر کو مختلف لیبارٹریوں اور تحقیقی سرگرمیوں کا معائنہ کرایا۔افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پی آئی سی اے ایس میں جدید تحقیقی مراکز کا قیام پاکستان کے ٹیکنالوجی سے وابستہ مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم ایسے منصوبوں پر کام کریں جو انفرادی کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں اور ملک کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت بنانے میں مدد دیں۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ سی ایم ایس اور ایچ پی سی کی منظوری 2017 میں وژن 2025 کے تحت دی گئی تھی جس کا مقصد جدید ریاضیاتی اور کمپیوٹیشنل تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جو علم اور ٹیکنالوجی کے اعلیٰ درجے تک رسائی حاصل کرتی ہیں اور پاکستان میں جدید تحقیق و ترقی کے ماحول کے فروغ کے لیے یہ سہولت ایک اہم سنگِ میل ہے۔چیئرمین پی اے ای سی نے اس موقع پر پروفیسر احسن اقبال کے وژن اور تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی سرپرستی کے بغیر یہ منصوبہ ممکن نہ ہوتا۔منصوبے کے تحت پی آئی سی اے ایس میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹم کے ساتھ آٹھ جدید خصوصی تجربہ گاہیں، ایک نیا اکیڈمک بلاک اور ریسرچرز ہاسٹل بھی قائم کیا گیا ہے۔ یہ سہولیات اپلائیڈ میتھمیٹیکل سائنسز، کمپیوٹیشنل ریسرچ اور جدید سائنسی ماڈلنگ کو قومی سطح پر نئی جہت فراہم کریں گی۔
جدید ترین الخوارزمی ایچ پی سی کلسٹر جو حال ہی میں پی آئی سی اے ایس میں فعال ہوا ہے، 350 ٹی ایف ایل او پی ایس کی پیک کارکردگی، 5,104 سی پی یو کورز، 40 ٹیرا بائٹ ریم اور 2 پیٹا بائٹ اسٹوریج جیسی صلاحیتوں سے لیس ہے۔ یہ انفراسٹرکچر اعلیٰ رفتار 200 جی بی پی ایس انفینی بینڈ این ڈی آر سے منسلک ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اینالٹکس، سائنسی سیمولیشنز، جینومکس، اے آئی اور ماحولیاتی تحقیق ممکن ہو سکے گی۔یہ ایچ پی سی کلسٹر ملک بھر کی یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔ اس سے بیرونی کمپیوٹنگ سہولیات پر انحصار کم اور مقامی محققین کے لیے عالمی معیار کی تحقیق کا راستہ ہموار ہوگا۔ رسائی تحقیقی معیار کی بنیاد پر دی جائے گی جبکہ نئے صارفین کو تربیت اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پی آئی سی اے ایس، جو 1967 میں ’ری ایکٹر اسکول‘ کے طور پر قائم ہوا، آج پاکستان کی صفِ اول انجینئرنگ یونیورسٹی ہے اور پی اے ای سی کے تحت جدید ریسرچ و ٹیکنالوجی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔








