سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سرمایہ کاری کو فروغ دینے، سرمایہ کاروں کی شرکت وسیع کرنے اور ریٹ سکیموں کو زیادہ وسعت فراہم کرنے کے لئے ریٹ ریگولیشنز 2022 میں اہم ترامیم تجویز کی ہیں۔تجویز کردہ اصلاحات کے تحت ریئل اسٹیٹ کی آمدنی اور اثاثوں کی حد 75 فیصد سے کم کر کے 65 فیصد کی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ کاری پر مبنی …
ایس ای سی پی کی جانب سے پاکستان کے ریٹ سیکٹر میں ترقی کو تیز کرنے کے لئے اصلاحات کی تجویز
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سرمایہ کاری کو فروغ دینے، سرمایہ کاروں کی شرکت وسیع کرنے اور ریٹ سکیموں کو زیادہ وسعت فراہم کرنے کے لئے ریٹ ریگولیشنز 2022 میں اہم ترامیم تجویز کی ہیں۔تجویز کردہ اصلاحات کے تحت ریئل اسٹیٹ کی آمدنی اور اثاثوں کی حد 75 فیصد سے کم کر کے 65 فیصد کی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ کاری پر مبنی ریٹس کو خالی زمین اور پلاٹوں میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔
گروپ سطح کے ٹرسٹس اور ملازمین کے فنڈز کو غیر فہرست شدہ ریٹس میں سرمایہ کاری کی اجازت ملے گی اور سپانسرز و ڈائریکٹرز سے قرض کی مدت 24 سے بڑھا کر 36 ماہ کی جائے گی۔ان ترامیم کا مقصد آر ایم سیز (RMCs) کو ریٹس کی لسٹنگ میں ایک سال تک کی توسیع اور سرکاری اداروں سے جائیدادوں کے حصول میں آسانیاں فراہم کرنا ہے۔
مزید برآں ہائبرڈ ریٹ ا سکیمیں ہولڈنگ مدت کے دوران کرائے کی آمدنی حاصل کر سکیں گی۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد طویل المدتی سرمایہ متحرک کرنا، سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔مسودہ آراء کے لئے پیش کر دیا گیا ہے اور سٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔









