ٹیکنالوجی زونز قومی برآمدات بڑھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اسلام آباد ٹیکنوپولس کی تکمیل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ ملک ابرار احمد کی ہدایت
ٹیکنالوجی زونز قومی برآمدات بڑھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اسلام آباد ٹیکنوپولس کی تکمیل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ ملک ابرار احمد کی ہدایت
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں آئی ٹی برآمدات کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے زیر تعمیر زونز پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور فلیگ شپ منصوبے’’اسلام آباد ٹیکنوپولس‘‘ کی فیزیکل تکمیل کو بغیر کسی رکاوٹ کے وقت پر یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ملک ابرار احمد کی زیر صدارت اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری کابینہ ڈویژن کامران علی افضل، ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ ڈویژن میر حسن نقوی، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سید معظم علی اور چیئرمین اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی اظفر منظور کے علاوہ کمیٹی اراکین شاہدہ بیگم، نزہت صادق، طاہرہ اورنگزیب، عرفان علی لغاری، ڈاکٹر رمیش کمار، رعنا انصر، محمد عامر اور ڈاکٹر نیلسن عظیم نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیئرمین سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی اظفر منظور نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتھارٹی کے تحت ملک کے 7 بڑے کلسٹرز، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، ہری پور، فیصل آباد، اٹک اور ٹھٹھہ میں اب تک 32 ٹیکنالوجی زونز نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں جن میں سے 20 فعال اور 12 زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی کے دائرہ کار میں اثاثوں کی مالیت 1 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان زونز میں گوگل، سام سنگ، ہواوے، داراز اور بائیکار جیسی عالمی و ملکی کمپنیوں سمیت 300 سے زائد ٹیک فرمز کام کر رہی ہیں جن کے ذریعے اب تک 30 ہزار سے زائد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ اتھارٹی کا بنیادی ہدف مصنوعی ذہانت ، سیمی کنڈکٹرز، کلائوڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس، الیکٹرک وہیکلز اور فن ٹیک جیسے جدید شعبوں کو فروغ دینا اور ملکی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے 30 جون 2035ء تک 10 سالہ تاریخی مالیاتی مراعات نافذ کی گئی ہیں جن کے تحت کمپنیوں کو 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس، ٹرن اوور ٹیکس، مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور 18 فیصد سیلز ٹیکس سے 100 فیصد استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیویڈنڈز اور کیپیٹل گینز پر ٹیکس چھوٹ اور سٹیٹ بینک کے خصوصی فارن ایکسچینج اکائونٹ کے ذریعے منافع کی باہر منتقلی کو سہل بنایا گیا ہے جبکہ ریگولیٹری کلیئرنس کے لیے ایس ای سی پی، ایف بی آر، کسٹمز اور سٹیٹ بینک سے منسلک ’ڈیجیٹل ون ونڈو پورٹل‘ مکمل فعال ہے۔فلیگ شپ منصوبے ’’اسلام آباد ٹیکنوپولس‘‘ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کری روڈ پر 140 ایکڑ اراضی میں سے 1 کروڑ 77 لاکھ مربع فٹ منظور شدہ تعمیراتی رقبہ مختص ہے جس کا 69 فیصد حصہ خالصتاً ٹیکنالوجی زون کے لیے رکھا گیا ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 652 ملین ڈالر کے اس میگا پروجیکٹ کے 15 میں سے 13 بنیادی سنگ میل مکمل ہو چکے ہیں جن میں ماسٹر پلان، 80 میگاواٹ بجلی اور راول ڈیم سے 1.5 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی شامل ہے جبکہ گرڈ لائن اور بیرونی چاردیواری پر فزیکل کام جاری ہے۔کمیٹی کے چیئرمین ملک ابرار احمد اور معزز اراکین نے بریفنگ پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے ’’اسلام آباد ٹیکنوپولس ‘‘کی تعمیر، ٹیکس چھوٹ کی مانیٹرنگ، مقامی سطح پر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تاحال 12 زیر تعمیر زونز میں تاخیر کی وجوہات بارے سوالات اٹھائے جن پر اتھارٹی کے حکام نے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) کے اشتراک سے ٹیکنوپولس کے ٹرانزیکشن سٹرکچر اور سرمایہ کاروں کی شمولیت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے
جبکہ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے ساتھ رابطے مزید مضبوط کر کے باقی مانندہ زونز پر تعمیراتی کام کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جا رہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی ملک ابرار احمد نے ہدایت کی کہ اتھارٹی تمام زیر التواء زونز کی بروقت تکمیل اور ٹیکنوپولس پروجیکٹ میں نجی شعبے کی شمولیت کے عمل کو تیز کرے تاکہ ملکی معیشت کو آئی ٹی سیکٹر سے فوری ثمرات حاصل ہو سکیں۔









