احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس ،مجموعی طور پر 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہواجس میں مجموعی طور پر 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے 7 منصوبے سی ڈی ڈبلیو پی سطح پر منظور کیے گئے جن کی مجموعی لاگت 34.66 ارب روپے ہے جبکہ …

اسلام آباد۔15نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہواجس میں مجموعی طور پر 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے 7 منصوبے سی ڈی ڈبلیو پی سطح پر منظور کیے گئے جن کی مجموعی لاگت 34.66 ارب روپے ہے جبکہ 44.62 ارب روپے مالیت کے 2 منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھجوائے گئے۔

اجلاس میں سیکریٹری پلاننگ اویس منظور سمرا، وی سی پائیڈ ، چیف اکانومسٹ، پلاننگ کمیشن کے ممبران، وفاقی سیکریٹریز، صوبائی منصوبہ بندی و ترقی کے محکموں کے سربراہان اور متعلقہ وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کا ایجنڈا تعلیم و تربیت، گورننس، صحت، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ، بجلی، ٹرانسپورٹ و مواصلات اور آبی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تھا۔اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے متعلق نظرِ ثانی شدہ منصوبہ "یونیورسٹی آف تربت (فیز-II) کی تعمیر” 1930.330 ملین روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا۔

اس منصوبے میں نئے اکیڈمک بلاک، لڑکوں اور بچیوں کے ہاسٹل، رہائشی سہولیات، سڑکوں، واٹر سپلائی، سیوریج، سولر سسٹم، الیکٹریفکیشن، نیٹ ورکنگ، آفس و تدریسی آلات، لیبارٹریز، کتب و جرائد، فرنیچر اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔منصوبے کی منظوری کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ بلوچستان کی معاشی ترقی ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کے ترقیاتی وژن کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ انہوں نے سابقہ ادوار میں صوبے کے دور دراز علاقوں میں نئی یونیورسٹیاں اور کیمپسز کے قیام، BUITEMS اور سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے لیے مالی معاونت اور مائننگ انجینئرنگ کے شعبے کی مضبوطی میں سرمایہ کاری کا حوالہ دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اب یہ ذمہ داری وائس چانسلرز اور اساتذہ کی ہے کہ وہ نوجوانوں کی فکری آبیاری کریں ،انہیں قومی شعور دیں اور انہیں یہ باور کرائیں کہ ریاست ان کے مستقبل پر کتنا سرمایہ لگا رہی ہے۔ انہوں نے طالب علموں کے لیے اسلام آباد اور دیگر اہم شہروں کے اسٹڈی ٹورز شامل کرنے کی بھی ہدایت دی۔مزید برآں وفاقی وزیر نے لیبارٹری آلات کے لیے کم کی گئی رقم بحال کی، لائبریری کتب کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا اور یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر لائبریری وسائل بڑھانے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی توانائی بچت کے لیے سولر سسٹمز کی تنصیب کی منظوری بھی دی گئی، جسے سی ڈی ڈبلیو پی اراکین نے سراہا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نظرثانی شدہ منصوبہ "آٹومیشن آف پاکستان پوسٹ” 6644.830 ملین روپے کی لاگت سے منظوری کے لیے پیش کیا گیا جو پی ایس ڈی پی کے بجائے کوریا کے ایکزم بینک کے تعاون سے فنانس کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ ملک بھر میں 2,761 ڈاک خانوں کی ڈیجیٹل تبدیلی، مالیاتی خدمات کے استحکام، ریمٹینسز، سی او ڈی، بنیادی بینکنگ، انشورنس، ایجنسی سروسز، ای۔کامرس آپریشنز، ڈیٹا سینٹر کے قیام، لاجسٹکس و ٹرانسپورٹ مینجمنٹ کی آٹومیشن اور جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر کی فراہمی پر مشتمل ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 2017 میں مسلم لیگ (ن) حکومت نے 2.2 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیا تھا لیکن پچھلے دورِ حکومت میں بند ہونے کے باعث اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ چار سال کی تاخیر کے باعث لاگت بڑھ کر 6.5 ارب روپے ہو چکی ہے اور پاکستان پوسٹ کو 65 فیصد تک آمدن کا نقصان اٹھانا پڑا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پوسٹ کی ڈیجیٹلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مناسب آٹومیشن کی بدولت پاکستان پوسٹ اب بھی ای۔کامرس مارکیٹ میں نمایاں حصہ حاصل کر سکتا ہے۔دیگر اہم منظور شدہ منصوبوں میں دانش اسکول چترال (خیبر پختونخوا)، لاگت: 3,319.729 ملین روپے،گورننس سیکٹر میں وفاقی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ (امبریلا پروگرام)، لاگت: 5,431.500 ملین روپے،پمز میں اسٹروک انٹروینشن اور کریٹیکل/کارڈیک کیئر سہولیات کا منصوبہ، لاگت: 7,220.956 ملین روپے،پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے تحت پروجیکٹ ریڈینیس فنانسنگ، لاگت: 4,836.717 ملین روپے،خیبر I, II, III اور نگر خاص I, II ہائیڈل پاور اسٹیشنز کی بحالی و توانائی بچت منصوبہ (KfW گرانٹ)، لاگت: 5,274.510 ملین روپے شامل ہیں۔

ایکنک کو بھیجے گئے دو بڑے منصوبوں میں لاہور۔سیالکوٹ موٹروے سے امرکوٹ تا نارنگ منڈی لنک ہائی وے (چار رویہ)لاگت: 28,964.144 ملین روپے،منصوبہ تھرڈ ریویژن کے تحت کم لاگت و بہتر ڈیزائن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پروجیکٹ جس کی لاگت 15,654.190 ملین روپے یہ منصوبہ اے ڈی بی، خیبر پختونخوا حکومت اور مقامی کسانوں کے مشترکہ تعاون سے مکمل ہوگا۔