اراکین قومی اسمبلی کا نکتہ ہائے اعتراض پرمختلف امور پر اظہار خیال، کراچی کے گل پلازہ واقعہ پرافسوس کااظہار، سانحہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کامطالبہ

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی میں بدھ کو اراکین نے نکتہ ہائے اعتراض پر مختلف امور کو اجاگر کیا، کئی اراکین نے کراچی کے گل پلازہ واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کامطالبہ کیا۔ میاں خان بگٹی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ راجن پور اورڈیرہ بگٹی میں روزانہ کی بنیادپرلوگوں کوگاڑیوں سے اتار کر لوٹا جا رہاہے، اس صورتحال …

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی میں بدھ کو اراکین نے نکتہ ہائے اعتراض پر مختلف امور کو اجاگر کیا، کئی اراکین نے کراچی کے گل پلازہ واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کامطالبہ کیا۔ میاں خان بگٹی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ راجن پور اورڈیرہ بگٹی میں روزانہ کی بنیادپرلوگوں کوگاڑیوں سے اتار کر لوٹا جا رہاہے، اس صورتحال کانوٹس لیاجائے،سندھ، بلوچستان اور پنجا ب کے سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری لائی جائے،مقامی فورسز کواپنے علاقوں کی ذمہ داری سونپی جائے۔سحرکامران نے کہاکہ گل پلازہ واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے اورمستقبل میں اس طرح کے حاثات کاتدارک کرنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ ہائوس اورلاجز سمیت اہم عمارات کی سیفٹی اینڈسیکورٹی آڈٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعہ پرپوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے،تقسیم اورانتشارپیداکرنے سے گریزکرنا چاہئے۔

احمدسلیم صدیقی نے کہاکہ کراچی کے گل شاپنگ سینٹرکاواقعہ قومی سانحہ ہے،80سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں اورلواحقین کو ابھی تک میتیں نہیں ملی ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسائل کاحل بلدیاتی اداروں میں ہے مگران کے اختیارات چھین لئے گئے ہیں،سڑکوں کی حالت مخدوش ہے اورٹریفک کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔شیرافضل مروت نے نکتہ اعتراض پرکہاکہ جیل میں لوگ قانون کے تابع ہوتے ہیں،ایک بہن کواپنے قیدی بھائی سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہئے،2018میں جو زیادتیاں ہوئی تھیں تووہ اب نہیں ہونی چاہئیں، اس معاملہ کو انسانی ہمدردی کی بنیادپردیکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اراکین کو25کروڑ روپے کے فنڈزدئیے گئے ہیں جوہمیں نہیں ملے،وزیراعلیٰ نے میرے حلقے کے فنڈز بھی بندکردئیے ہیں،میں وزیراعظم صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے حلقے کیلئے فنڈز جاری کئے جائیں۔ مرزا اختیار بیگ نے کہاکہ گل پلازہ کاسانحہ افسوسناک ہے،اس واقعہ پرالزام تراشی کی بجائے لوگوں کی تکالیف میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائیں،وفاقی حکومت متاثرہ خاندانون کیلئے ایمرجنسی گرانٹس کااعلان کرے،سیفٹی اقدامات کی رپورٹ پرعملدرآمدنہ کرنے کی وجوہات تلاش کی جائیں، متاثرین کیلئے اس ماہ کے یوٹیلیٹی بلزمعاف کئے جائیں،ہمیں اپنے فائرفائٹنگ کے اقدامات کودوبارہ دیکھنا ہو گا۔

شہریارآفریدی نے کہاکہ قانون اور جیل مینول کے مطابق ملاقاتیں ہرقیدی کاحق ہے،ہم آئین اورقانون کی بالادستی پریقین رکھتے ہیں۔فرہان چشتی نے کہاکہ گل پلازہ کے دکانداروں کے ٹیکس معاف کئے جائے اوراس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ آن لائن ہیکنگ کی وجہ سے ان کے اکائونٹ سے پیسے منتقل کئے گئے ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئے، اس پرخصوصی کمیٹی بھی بنائی جائے۔ ڈپٹی سپیکرنے معاملہ ایف آئی اے کوبھجوادیا۔اقبال آفریدی نے کہاکہ بلوچستان اورسابق فاٹا کے میڈیکل طلبا کیلئے داخلوں کا طریقہ کارتبدیل کیا جائے، آئی ڈی پیز خاندانوں کے طلبا کومقامی سکولوں اورکالجز میں اکاموڈیٹ کیا جائے۔شاہدہ رحمانی نے کہاکہ کراچی گل پلازہ میں پلاسٹک کھلونوں کی وجہ سے آگ تیزی سے بڑھی، یہ افسوسناک واقعہ ہے،ہم سب کواس طرح کے سانحات میں متحدہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ صنفی امتیاز میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائیں،خواتین اراکین اسمبلی بھی اس کا شکار ہیں۔ چ

نگیز احمد خان کاکڑنے کہاکہ فیصل آباد پنڈی بھٹیاں موٹروے پر ٹول پلازہ کی تعمیر پرکروڑوں روپے لگائے گئے اوربعدمیں اسے ختم کردیاگیا تاہم وہ ڈھانچہ اب بھی موجودہے، اس کی وجہ سے اب تک حادث کی وجہ سے 30سے لے کر 40لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شاہرات پرحادثات کے تدارک کیلئے اقدامات میں اضافہ کیاجائے۔انورتاج نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے،اس کے ساتھ ساتھ پنجاب سے خیبرپختونخوا کوآٹے اورگندم کی فراہمی پرپابندی لگائی گئی ہے،صوبہ 5سے لے کر6روپے یونٹ پر بجلی ملک کودے رہاہے مگروہی بجلی ہمیں 50سے لے کر 60روپے یونٹس پرفروخت کی جارہی ہے، اس صورتحال کانوٹس لیا جائے۔سید حفیظ الدین نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم آسمانی صحیفہ نہیں ہے اس پربات ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ گل پلازہ اور بلدیہ ٹائون سمیت کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔عالیہ کامران نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کونشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے،اس کیلئے مناسب فورم مشترکہ مفادات کونسل ہے۔

انہوں نے کہاکہ حادثات ہوتے رہتے ہیں مگریہ دیکھنا چاہئے کہ تدارک کیلئے کیا اقدامات کئے گئے تھے اورمتعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داریاں کس طرح سے اداکی ہیں، یہ مجرمانہ غفلت ہے اوراس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔ریاض فتیانہ نے کہاکہ موٹروے ایم تھری، ایم فور اوراین فائیو کوملانے والی شاہراہ صرف دورویہ ہے اوراس پرآئے روز حادثات ہورہے ہیں،کمالیہ سے رجانہ پورشن کو چار لین ایکسپریس ہائی وے بنانے سے حادثات میں کمی آئے گی۔ جمال احسن نیازی نے کہاکہ ملتان مدر اینڈچلڈرن ہسپتال کوختم کرکے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور وہاں سے مشینری لاہورشفٹ کی گئی ہے، اسی طرح ڈی ایچ کیوہسپتال کے ساتھ منسلک ہسپتال کو بند کر دیاگیاہے۔

سیدرضاعلی گیلانی نے کہاکہ دیپالپورتحصیل آلو کی پیداوارکے حوالہ سے عالمی اہمیت رکھتاہے تاہم آلو کے کاشتکارشدید مشکلات کاشکارہیں،ہم سری لنکا سمیت خلیجی ممالک کی ضروریات پوری کررہے ہیں، سرحدوں کی بندش کی وجہ سے کسانوں کومشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔ نعیمہ کشورخان نے کہاکہ خواتین اراکین اسمبلی کوفنڈز کی فراہمی میں تفریق ختم کی جائے، خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ سے لوگوں کومشکلات کاسامنا ہے، مردان میں 10سے لے کر12گھنٹوں تک کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلدیاتی اداروں اورمقامی حکومتوں کانظام قائم کرنا ضروری ہے۔علی محمدخان نے کہاکہ ہم مذاکرات پریقین رکھتے ہیں ،ہماری سیاسی قیادت کوبانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے ،اپوزیشن لیڈرمحمودخان اچکزئی اورراناثناء اللہ جیسے سنجیدہ لوگ درمیان میں آگئے ہیں اورمجھے یقین ہے کہ خیرکاراستہ نکل سکتاہے۔