استنبول میں مقیم غیر رجسٹرڈ شامی مہاجرین کو آئندہ منگل تک شہر چھوڑنے کی مہلت

انقرہ ۔ 22 اگست (اے پی پی) ترکی کے دارالحکومت استنبول میں مقیم شامی مہاجرین کو آئندہ منگل تک شہر چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد انہیں زبردستی ترکی بدر کر دیا جائے گا۔ترک حکام نے استنبول میں غیر اندارج شدہ مہاجرین کو کہا ہے کہ جن صوبوں میں ان کے ناموں کا اندارج کیا گیا تھا وہ ان صوبوں میں لوٹ جائیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق …

انقرہ ۔ 22 اگست (اے پی پی) ترکی کے دارالحکومت استنبول میں مقیم شامی مہاجرین کو آئندہ منگل تک شہر چھوڑنے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد انہیں زبردستی ترکی بدر کر دیا جائے گا۔ترک حکام نے استنبول میں غیر اندارج شدہ مہاجرین کو کہا ہے کہ جن صوبوں میں ان کے ناموں کا اندارج کیا گیا تھا وہ ان صوبوں میں لوٹ جائیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مہاجرین کو زبردستی شام کے صوبے ادلب بھیجا جا رہا ہے جہاں پر حالیہ دنوں میں لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ مہاجرین سے زبردستی ‘رضا کارانہ’ ترکی چھوڑنے کی ایسی دستاویزات پر دستخط کرائے جا رہے ہیں۔ استنبول چھوڑنے کا حکم جولائی میں جاری کیا گیا تھا جس میں ایک ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔پانچ لاکھ کے قریب شامی مہاجرین استنبول میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین غیر قانونی طور پر استنبول میں رہ رہے ہیں جو دوسرے صوبوں میں اندراج کے بعد استنبول آ کر آباد ہو ئے۔استنبول چھوڑنے کا حکام جاری کرتے ہوئے شامی مہاجرین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی شناختی دستاویزات ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھیں کیونکہ ان کی شہر میں چلتے پھرتے کسی وقت بھی چیکنگ کی جا سکتی ہے۔ترکی اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس نے دنیا میں سب سے زیادہ 36 لاکھ مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی ہے۔ لیکن اب اس کے لئے بڑی تعداد میں مہاجرین کی دیکھ بھال مشکل ہورہی ہے ۔ ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ جو شامی مہاجرین واپس لوٹ رہے ہیں وہ اپنی مرضی سے اور ان علاقوں میں جا رہے ہیں جن کو ترک فوج نے شدت پسندوں سے صاف کر دیا ہے۔شام میں آٹھ سال سے جاری جنگ کے بعد سے اب ترکی کے دروازے شامی مہاجرین پر بند ہوتے جا رہے ہیں اور اب انھیں خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔اگست کے شروع میں بارہ ہزار شامی مہاجرین کو استنبول سے زبردستی ان صوبوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا اندراج کیا گیا تھا جبکہ 2600 مہاجرین کو ایسے کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا جو وزارتِ داخلہ کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ ہزاروں کاروباری مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں غیر قانونی طور پر مہاجرین کے کام کرنے کا اندیشہ تھا۔

مزید خبریں