مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے سربراہان اور چیفس آف جنرل اسٹاف نے اجتماعی دفاع، عسکری صلاحیتوں کے انضمام اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ریاض میں تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کا اہم اجلاس؛ مکہ مکرمہ اور معاشی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت

مزید خبریں
ریاض/راولپنڈی۔26ستمبر (اے پی پی):مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے سربراہان اور چیفس آف جنرل اسٹاف نے اجتماعی دفاع، عسکری صلاحیتوں کے انضمام اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اعلیٰ سطحی اجلاس جمعہ کو ریاض میں منعقد ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کی عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور بالخصوص مملکتِ سعودی عرب کو درپیش خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ عسکری قیادت نے مقدس شہر مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کی شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ شرکاء نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مملکت کی حفاظت کو یقینی بنانے کے سلسلے میں سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مستعدی اور کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں تینوں برادر ممالک کی افواج کے مابین مشترکہ دفاعی قوت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، عسکری ہم آہنگی اور جنگی صلاحیتوں کے عملی انضمام (کیپبلٹی انٹیگریشن) کے مؤثر طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ عسکری سربراہان نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے مابین قائم تاریخی برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاض اجلاس ان کی اس مشترکہ خواہش اور عزم کا عکاس ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو فوری اور عملی فوجی تعاون میں ڈھالا جائے۔ شرکاء نے اس عزم کو دہرایا کہ سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تینوں ممالک ہر سطح پر باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔







