اسدعمر کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 7 نومبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت موجودہ 1300 روپے فی 40 کلوگرام کی سطح پربرقرار رہنے، پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کیلئے ایک ماہ (ستمبر2018) کی تنخواہ کی ادائیگی کیلئے 367 ملین روپے کی ادائیگی اور ربیع سیزن 2018-19ءمیں کسانوں کی ضروریات کیلئے 50 ہزارٹن یوریا کھادکی درآمد کی اجازت دیدی ہے، کمیٹی نے سارک فوڈ بنک ریزرو …

اسلام آباد ۔ 7 نومبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی امدادی قیمت موجودہ 1300 روپے فی 40 کلوگرام کی سطح پربرقرار رہنے، پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کیلئے ایک ماہ (ستمبر2018) کی تنخواہ کی ادائیگی کیلئے 367 ملین روپے کی ادائیگی اور ربیع سیزن 2018-19ءمیں کسانوں کی ضروریات کیلئے 50 ہزارٹن یوریا کھادکی درآمد کی اجازت دیدی ہے، کمیٹی نے سارک فوڈ بنک ریزرو کیلئے پاکستان کی جانب سے 40ہزارٹن کے حصے کو 80 ہزارٹن تک بڑھانے کی تجویز کی بھی منظوری دی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاورڈویژن کوپی ایس او کے 300 ارب روپے سے زائد واجبات کی ادائیگی کیلئے متعلقہ کمپنیوں اوراداروں سے فعال رابطے کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزیرخزانہ اسدعمر کی زیرصدارت منقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے سال 2018-19 ءکیلئے گندم کی امدادی قیمت سے متعلق تجاویز کاجائزہ لیا گیا اورفیصلہ کیا گیا کہ گندم کی امدادی قیمت موجودہ 1300 روپے فی 40 کلوگرام سطح پربرقراررہے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمت بہت کم ہے اورپاکستان کی حکومت اپنے کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے گندم کی خریداری کے عمل میں زیادہ اخراجات برداشت کررہی ہے۔اجلاس کے دوران نجکاری ڈویژن کی جانب سے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کیلئے ایک ماہ (ستمبر2018) کی تنخواہ کی ادائیگی کیلئے 367 ملین روپے کی ادائیگی کی تجویز کی منظوری دی گئی۔