اسرائیلی فوج کا غزہ میں رہائشی مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی چار بچوں سمیت شہید

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کو فجر کے وقت غزہ شہر پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک شہری، اس کی اہلیہ اور ان کے چار معصوم بچے شہید ہو گئے۔ مرکز اطلاعات فسلطین کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے علاقے حی الصبرہ میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا ۔

غزہ۔21جولائی (اے پی پی):اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کو فجر کے وقت غزہ شہر پر فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک شہری، اس کی اہلیہ اور ان کے چار معصوم بچے شہید ہو گئے۔ مرکز اطلاعات فسلطین کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے علاقے حی الصبرہ میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا ۔

شہدا میں فراس أحمد المصری، ان کی اہلیہ سلسبيل محمد علی المصری اور ان کے چار بچے نعيم، فريال، سلمى اور أميرہ شامل ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق حملے کے نتیجہ میں مکان میں بھڑکنے والی شدید آگ کی وجہ سے شہری دفاع کے عملے کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فائر فائٹنگ کی ٹیموں نے غزہ میونسپلٹی کے عملے کے تعاون سے مکان میں لگی ہولناک آگ پر قابو پا لیا اور شعلوں کو قریبی گھروں تک پھیلنے سے روک دیا۔ دریں اثنا اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی شہر خان یونس کے مشرق میں فائرنگ کی جبکہ اس دوران علاقے میں توپ خانے کی گولہ باری بھی کی گئی۔منگل کی صبح خان یونس کے علاقے مواصی میں بئر 19 کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہو گیا۔

گذشتہ رات شمالی غزہ میں جبالیا کیمپ کے اندر واقع یمن السعيد ہسپتال کی پہلی منزل پر ایک صیہونی ڈرون کے حملے کے نتیجے میں چار افراد شہید اور دیگر کئی زخمی ہو گئے تھے ۔فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ سال 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1169 ہو چکی ہے، اس کے علاوہ 3756 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 802 لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔

 

مزید خبریں