تل ابیب ۔9اکتوبر (اے پی پی):اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق فوجی کمانڈر گال ہرش کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کا رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔ سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق فوجی کمانڈر گال ہرش کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کا رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔ یاد …
اسرائیلی وزیر اعظم کا سابق کمانڈر کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے معاملہ پر رابطہ کار مقرر

مزید خبریں
تل ابیب ۔9اکتوبر (اے پی پی):اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق فوجی کمانڈر گال ہرش کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کا رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سابق فوجی کمانڈر گال ہرش کو قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کا رابطہ کار مقرر کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ سر گال ہرش نے 2006 کی دوسری لبنان جنگ کے دوران اپنے طرز عمل پر ہونے والی تحقیقات کی وجہ سے فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا۔گال ہرش کو اپنے زیرکمان علاقے میں جنگ کے موقع پر دو اسرائیلی فوجیوں کے اغواہونے ا ور جنگ کے دوران قائدانہ انداز کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرناپڑا ۔2015 میں انہیں اس وقت کے پولیس کے وزیر گیلاد اردان نے پولیس چیف کے طور پر کام کرنے کے لیے نامزد کیا تھا،
لیکن غیر قانونی کاروباری لین دین کے خدشات کے باعث ان کی نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا تھا۔2019 میں گال ہرش نے اپنے ہی پلیٹ فارم پر کنیسٹ کے لیے انتخاب لڑنے کی کوشش کی اور صرف 3ہزار 400ووٹوں سے جیت گئے۔ بعد میں ہرش نے لیکود پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ۔
اکتوبر میں ہرش پر تل ابیب کی مجسٹریٹ عدالت نے جارجیا میں ایک دفاعی کمپنی میں اپنے آپریشنز کے منافع کو کم رپورٹ کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی تھی۔ گال ہرش پر 3 دیگر کاروباری شراکت داروں کے ساتھ کمپنی ڈیفنس شیلڈ جارجیا کو ہتھیاروں کی فروخت اور 2007 اور 2009 کے درمیان دیگر ممالک کو خدمات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ ہرش کے وکلا نے کہاکہ ان کی ٹیکس رپورٹس قانونی اور مکمل تھیں۔








