تل ابیب۔19اکتوبر (اے پی پی):اسرائیلی پولیس کے سربراہ نے غزہ پر بمباری کے خلاف مظاہروں کے شرکا کو بسوں میں بھر کر غزہ بھیجنے کی دھمکی دے دی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک وڈیو پیغام میں اسرائیلی پولیس کے سربراہ کوبی شبتائی نے کہا ہے کہ اسرائیل میں غزہ کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے لیے زیرو ٹالرنس ہو گی۔کوبی شبتائی کا بیان اسرائیلی پولیس کی طرف سے اسرائیل …
اسرائیلی پولیس کے سربراہ کی غزہ پر بمباری کے خلاف مظاہروں کے شرکا کو بسوں میں بھر کر غزہ بھیجنے کی دھمکی

مزید خبریں
تل ابیب۔19اکتوبر (اے پی پی):اسرائیلی پولیس کے سربراہ نے غزہ پر بمباری کے خلاف مظاہروں کے شرکا کو بسوں میں بھر کر غزہ بھیجنے کی دھمکی دے دی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک وڈیو پیغام میں اسرائیلی پولیس کے سربراہ کوبی شبتائی نے کہا ہے کہ اسرائیل میں غزہ کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے لیے زیرو ٹالرنس ہو گی۔کوبی شبتائی کا بیان اسرائیلی پولیس کی طرف سے اسرائیل کے شہر حیفہ میں پولیس کی طر ف سے غزہ کی حمایت میں نکالی گئی ریلی کے شرکا کے خلاف کریک ڈائون کے بعد سامنے آیا ہے ۔
پولیس اہلکاروں نے اس موقع پر 6 افرادکو گرفتار بھی کیا تھا۔ کوبی شبتائی نے کہا کہ جو لوگ اسرائیل کا شہری بن کر اسرائیل میں رہنا چاہتے ہیں وہ ان کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم جو لوگ غزہ کے حوالے سے اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں وہ ان کو خبر دار کرتے ہیں کہ پولیس ان کو بسوں میں بھر کر زبردستی غزہ بھیج دےگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا نہ ہی کسی احتجاج کی اجازت ہوگی کیونکہ اسرائیل اس وقت حالت جنگ میں ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی پولیس نے غزہ میں وحشیانہ بمباری کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو دہشت گر د قرار دیا ہے اور ایسے مظاہروں میں شرکت پر اب تک کل 63 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی پارلیمنٹ کے اخلاقی پینل نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اوفر کاسیف کو جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل مخالف بیانات دینے پر معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اوفر کاسیف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت غزہ میں ایسے ہی ایک منصوبے پر کا م کر رہی ہے جس طرح کے منصوبے پر جرمن نازیوں نے یورپ میں یہودیوں کے خلاف عمل کیا تھا۔
ایک اور موقع پر انہوں نے حماس کے حملے کے حوالے سے کہا کہ اسرائیل خود ایسی پر تشدد کارروائی کا خواہاں تھا۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اوفر کاسیف کو 45 دنوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔اور انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس فیصلے کو سیاسی اظہار آزادی کے تابوت میں ایک اور کیل قرار دیا ہے۔








