اسرائیل نے غزہ میں بچوں کی ویکسین اور دودھ کی فراہمی روک رکھی ہے،یونیسف

نیو یارک۔12نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’’یونیسف‘‘نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے محصور علاقے میں بنیادی امدادی سامان کی ترسیل روک رہا ہے جس میں بچوں کے حفاظتی ٹیکے اور دودھ کی بوتلیں شامل ہیں، اس اقدام سے غزہ میں امدادی اداروں کو ضرورت مندوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پیرس نے بتایا …

نیو یارک۔12نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’’یونیسف‘‘نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے محصور علاقے میں بنیادی امدادی سامان کی ترسیل روک رہا ہے جس میں بچوں کے حفاظتی ٹیکے اور دودھ کی بوتلیں شامل ہیں، اس اقدام سے غزہ میں امدادی اداروں کو ضرورت مندوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پیرس نے بتایا کہ ادارہ بچوں کے لیے 16 لاکھ انجیکشن اور ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے فریج بھیجنے میں رکاوٹوں سے دوچار ہے جبکہ یہ سامان اگست سے اسرائیلی اجازت نامے کا منتظر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یونیسف نے جنگ بندی کے دوران وسیع پیمانے پر حفاظتی ٹیکوں کی مہم شروع کر رکھی ہے جس میں 3 سال سے کم عمر کے 40 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو، خسرہ اور نمونیا سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں، یہ وہ بچے ہیں جو 2برسوں کی جنگ کے دوران معمول کے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام دیگر اہم اشیا کی ترسیل کی اجازت بھی نہیں دے رہے جن میں بچوں کے استعمال کے لئے تقریباً 9 لاکھ 38 ہزار تیار دودھ کی بوتلیں اور پانی کی ترسیل کےلئے ضروری ٹرکوں کے پرزے شامل ہیں۔ یاد رہے کہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب تک داخل ہونے والی اشیا کی مقدار تقریباً 20 لاکھ متاثرہ افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

 

مزید خبریں